ڈالر ایک بار پھر بے قابو، ایک امریکی ڈالر 216 روپے کا ہوگیا

US Dollars
امریکی ڈالرز: فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ کے قرض پروگرام کی بحالی کے معاہدے کےاعلان کے باوجود ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری نہ آسکی۔ آج ایک بار پھر امریکی ڈالر کو پر لگ گئےاور پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر نے ایک بار پھر بلند چھلانگ لگا کر تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔
مردان ٹائمز کو کراچی سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی ڈالر کو ایک بار پھر سے پر لگ گئے ہیں اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اُونچی پرواز جاری ہے۔ آج بروز پیر یعنی کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 5 روپے 6 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آج جب کاروبار شروع ہوا تو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے ڈالر کی قدر بڑھ کر 216.01 روپے ہوگئی۔ اُدھرکراچی میں مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ایک امریکی ڈالر 216 روپے سے زائد پر فروخت ہو رہا ہے۔
اُدھر کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا گیا، جبکہ ڈالر کی اُونچی پرواز سے دن کے اختتام پر سرمایہ کاروں کے 98.58 ارب روپے ڈوب گئے۔
اتوار کی چھٹی کے بعد کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی انڈیکس 42 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کھو گیا اور 100 انڈیکس 41300 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ اور ڈالر کی قدر میں اضافے سے کاروباری دن کے اختتام تک 100 انڈیکس گھٹ کر 41367 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
اسے حوالے سے مزید کاروباری خبروں کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 707پوائنٹس کی مندی کے ساتھ کاروبار کا اختتام ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے 98.58ارب روپے ڈوب گئے۔
پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدے کی بحالی کے اعلانات کے باوجود مارکیٹ پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا، جبکہ دوسری طرف فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قرض کی بیرونی ادائیگیوں کے بعد ڈالر کی فروخت، زرمبادلہ کے زخائر میں کمی، ترسیلات زر اور برآمدات کی مد میں خاطر خواہ رقم نہ آنے کی وجہ سے پاکستانی روپے دباؤ میں ہے اور اس کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہورہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں حاطر خوا اضافہ نہیں ہوجاتا اور یہ مستحکم نہیں ہوجاتے اس وقت تک پاکستانی روپیہ دباؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔

Related Posts