ٹیپو سلطان ایک قومی ہیرو تھے. ابرار حسین

بھارت جیسے متعصب ملک میں ٹیپوسلطان پارک کے نام کے حوالے سے جو تازہ تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے یہ صرف اور صرف ہندوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف ایک نفرت اینگیز اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے.
برصغیر میں برطانوی دور حکومت میں ایسے نامی گرامی لوگ گزرے ہیں جن کے ناموں سے آج بھی انگریز ڈرتے ہیں۔ ان میں سے ایک ٹیپو سلطان بھی تھا۔ اگر چہ انگریز اُن کو ایک ظالم حکمران کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے آج تک ان کا ذکر فخر کا باعث ہے۔
لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ٹیپوسلطان ایک حملہ آور نہیں تھے اور نہ ہی وہ کہیں اور سے ہندوستان آئے تھے۔ وہ یہاں کے رہنے والے تھے۔ وہ ہندوستان کے دوسرے حکمرانوں سے کافی مختلف تھے۔ اور ان کو اپنے آبائی وطن سے بہت ہی پیار تھا۔ اگر چہ ہندوستان میں ہندو اور برطانیہ میں انگریز ان کو ایک حملہ آور کے طور پیش کرتے ہیں لیکن یہ ان کے بارے میں ایک بہت ہی بڑی غلط فہمی ہے۔
انگریزوں کے زمانے میں ٹیپو سلطان ہندوستان میں ایک ریاست کا والی تھا اور انھوں نے وہاں پر انگریزوں کو ناک میں دم کررکھا تھا ۔ انگریزوں کے علاوہ ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدرعلی نے اس وقت مرہٹہ میں مراٹھا کے پیشواؤں سے بھی کئی جنگیں لڑی تھی۔ ٹیپوسلطان کے کارنموں کی بنیاد پر ممبئی میں ایک پارک ان کے نام پر منسوب کیا گیا تھا جس پر اب بھارت میں ایک زبردست تنازعہ شروع ہوا ہے۔ٹیپو سلطان چونکہ ایک مسلمان رہنما تھا اسلئے بھارت میں ہندوں اور دائیں بازوں کے انتہاپسند جماعتیں نہیں چاہتی کہ بھارت جیسے ہندو ملک میں پارک کسی مسلمان رہنما کے نام سے منسوب ہو۔ اس لئے ان لوگوں نے وہاں پر اس حوالے سے ایک تنازعہ کھڑا کیا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹیپو سلطان نے اٹھارویں صدی میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے اس وقت ہندوستان کے واحد حکمران تھے جنہوں نے میدان جنگ میں جام شہادت نوش کیا تھا۔لیکن بھارت میں ان کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہے اور منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کی شخصیت کے خلاف طرح طرح کی منفی باتیں پھیلائی گئیں اور کہانیاں بنائی گئیں۔
تاہم مورخین کی رائے عام لوگوں سے یکسر مختلف ہے۔ میسور یونیورسٹی میں ٹیپو چیئر کے مشہور مورخ سیبسٹین جوزف سمیت دوسرے کئی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیپو سلطان ایک قومی ہیرو تھے۔ وہ کہتے ہیں مہاراشٹر کے لوگوں کو اس بارے میں نہیں معلوم اس لئے ان کے نام پر تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انیسویں صدی تک ایک ہندوستان یا ہندوستانیت کی کوئی شناخت نہیں تھی بلکہ اُس وقت مراٹھا، بنگال یا میسور کی کافی زیادہ شناخت تھی۔موجودہ دور میں ہندوستان میں ٹیپوسلطان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ جنوبی ہندوستان کے سب سے سفاک حملہ آوروں میں سے ایک تھے اور اس بات نے مورخین کو سب سے زیادہ حیران کیا ہے۔ تقریباً تمام مورخین کے مطابق ٹیپوسلطان ایک حملہ آور نہیں تھے اور نہ ہی کہیں اور سے یہاں پر آئے تھے۔ بلکہ وہ دیگر ہندوستانی حکمرانوں سے زیادہ اپنے آبائی وطن سے پیار کرنے والے تھے۔ وہ ایک وطن پرست انسان تھے جنہوں نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی بلکہ انھوں نے مرہٹوں اور حیدرآباد کے نظام کی مشترکہ افواج کے خلاف بھی جنگ لڑی تھی۔اگر اُن کے بارے میں اس طرح کی باتیں پھیلائی جائے کہ وہ ایک حملہ آور تھے اور وہ کہیں اور سے یہاں پر آئے تھے ان کے بارے میں صرف اور صرف تعصب اور غلط فہمی کا مظہر ہے۔
بھارت جیسے متعصب ملک میں ٹیپوسلطان سے نفرت کی دو وجیں ہیں ایک تو یہ لوگوں کو تاریخ کا سرے سے پتہ ہی نہیں ہے اور دوسری وجہ ہندوں کی نفرت ہے۔ اُس وقت ٹیپو سلطان کو شکست دینے کے لیے حیدر آبا د کے نظام نے انگریزوں اور مرہٹوں سے مل کر سازش رچائی اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔ ٹیپو سلطان نے صرف مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے دن رات کام کیا بلکہ انھوں نے ہندوں کے مندروں جس میں ملکوٹ، کولورموکامبیکا مندر اور اس طرح کے دیگر مندروں کونہ صرف زر و جواہرات اور زیورات فراہم کئے بلکہانہیں تحفظ بھی فراہم کیا۔
موجودہ وقت میں بھارت میں ٹیپوسلطان پارک کے حوالے سے جو بے وجہ تنازعہ کھڑا کیا گیا تو اس حوالے سے بڑے بڑے مورخین اس بات پر قائل ہیں کہ یہ سب کچھ تعصبات پیدا کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ انصاف پسند مورخین ،جس میں بھارت کے بعض اپنے مورخین بھی شامل ہیں ، کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹیپوسلطان کےزیرتسلط علاقوں میں ان کے ساتھ مختلف مذاہب کے لوگ رہاکرتے تھے۔ اور یہ بات نہایت ہی قابل ذکر ہے کہ اس نے دوسرے مذاہب کے لوگوں پر کبھی بھی کسی قسم کے مظالم نہیں کیے۔ نہ ہی اس نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے عبادت خانوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار اداد کیا۔
جبکہ دوسری جانب بھارت میں ایسے شیطانی ذہن والے لوگ بھی موجود ہیں جو کہ ٹیپوسلطان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے مرہٹوں پر اتنے مظالم کئے کہ آج بھی وہاں لوگوں کی روح کانپ جاتی ہے۔ وہ لوگ مزید غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیپوسلطان دسویں صدی کے ایک جابر اور ظالم حکمران تھے۔ اور انھوں نے کئی لوگوں کے مذاہب کو جبری طور پر تبدیل کیا تھا۔ لیکن یہ سب باتیں صرف اور صرف تعصبات پر مبنی ہیں۔ اس میں حقیقت کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ وہ اس قسم کے باتوں سے بالکل پاک تھے۔
اگر ہم ٹیپوسلطان کا اُس وقت کے دوسرے حکمرانوں سے موازنہ کرے تو ٹیپو کا نام ایک ملکی اور قومی ہیرو کے طور پر سامنے آجاتی ہے۔ کیونکہ دوسرے حکمرانوں نے یا تو انگریزوں کے سامنے بغیر لڑے ھتیار ڈالے اور یا کوئی ڈیل کی وجہ سے ان کو اپنے اپنے علاقے میں حکمران رہنے دیا گیا۔ جبکہ ٹیپوسلطان کا معاملہ بلکل اُلٹ ہے۔ انھوں نے کسی انگریز، مرہٹہ، ہندوں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات کئے اور نہ ہی کوئی ڈیل کیا۔ بلکہ اس وقت برصغیر میں سب سے مظبوط قوت انگریزوں کے خلاف بھی کئی جنگیں لڑیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ انگریز بھی ان سے نہایت تنگ تھے اور بعض نے تو ان کو ایک ظالم وجابر حکمران کے طور پر پیش کیا۔
ٹیپوسلطان کے حوالے سے ایک بھارتی مورخ اور پروفیسر نایر کہتی ہیں کہ ‘ان کی اپنی فوج مذاہب پر مشتمل 6 یونٹس تھیں۔ ان چھ میں سے دو یونٹ مرہٹوں اور راجپوتوں کی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ مسلمانوں کے مختلف حیثیتوں میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح وہ راجپوتوں اور مرہٹوں کے برادریوں میں بھی فرق نہیں کرتے تھے۔ مختلف مذاہب کے لوگ تھے۔ اور ہر ایک کو وہ مناسب تنخوا دیا کرتے تھے۔ ‘
ٹیپو سلطان کے حوالے سے پروفیسر نایر کا مزید کہنا ہے کہ ان کے معاشی منصوبوں، زراعت کی ترقی سمیت ریشم کی صنعت کے منصوبے کافی ترقی پسند تھے۔ ٹیپوسلطان نے اپنے زمانے میں زمین براہ راست اپنے کنٹرول میں لے تھی۔ اور اسے کے بعد اس کو اجارہ پر کاشتکاروں کو دی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا اور اس نظام کے اندر سب کو مناسب زمینیں ملیں۔
ٹیپو سلطان کے یہ منصوبے اتنے مقبول تھے کہ درحقیقت ٹیپو سلطان کی موت کے بعد انگریزوں نے خود ٹیپو سلطان کے زرعی نظام کو اپنایا جسکو انھوں نے ریت واری نظام کا نام دیا گیا۔ بھارت میں 1980 کی دہائی سے ٹیپوسلطان کے خلاف ایک بھرپور مہم شروع ہوئی ۔ان پر الزامات لگائے گئے کہ انھوں نے کئی لوگوں کے مذاہب کو جبراً تبدیل کیا ہے ۔ جبکہ دوسرا الزام یہ لگایا گیا کہ انھوں نے کننڑ زبان کو فروغ نہیں دیا اور کئی مندروں کو بھی تباہ و برباد کیا۔
اس طرح کے الزامات بھارت میں متعصب اور انتہاپسند ہندؤں نے لگائے جو کہ ہر وقت مسلمانوں پر مظالم ڈھائے ہوئے ہیں۔ مورخین کے مطابق اس بات کے بہت ہی زیادہ شواہد موجود ہیں کہ ٹیپوسلطان نے بہت مندروں کو کافی زیادہ عطیات دی تھیں۔ اس بات کی گواہی بھارت میں خود دائیں بازو کے مورخین میں شامل سوریہ ناتھ یوکامتھ نے ٹیپو سلطان کو کرناٹک کی تاریخ کی کتاب میں بھی دی ہے۔
بھارت میں انتہا پسند خلقوں کے متعصبانہ روہے کے بارے میں بھارتی تاریخ دان پروفیسر کا کہنا ہے کہ ‘بدقسمتی سے آج ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جہاں تاریخی نقطہ نظرسے ٹیپوسلطان کے بارے میں صحیح اور مثبت بات کرنا ملک دشمنی ہے’۔ اگر اس وقت بھارت میں صدیوں سال پہلے ایک مسلمان رہنما کے بارے میں اتنا کینہ اور بغض پایا جاتا ہے تو اس وقت وہاں پر مسلمانوں کا کیا حال ہوگا ۔
درحقیقت بھارت میں کھیل کے میدان یا پارک کا تاریخ یا ٹیپو سلطان کے نام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف احتجاج کی ایک آسان قسم کی علامت بن چکے ہیں۔ اس وقت بھارت میں مسلمان چہاروں اطراف سے اتنےزیر عتاب اور گھرے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے ٹیپوسلطان کا نام فخر کی علامت بن چکا ہے۔

Related Posts