دیر بالا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قے اور دست کی بیماریاں پھیلنے لگی، دو بھائی جانبحق

child washing her hands Photo File 640x480
خیبرپختونخوا کے دیر بالا میں سیلاب کے بعد قے اور دست کی بیماریاں پھیلنا شروع ہوچکی ہیں۔ فوٹو:فائل

دیر بالا : دیر بالا میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قے اور دست کی بیماریاں شدت پکڑنے لگی جس سے دو سگے بھائی جانبحق ہوگئے ہیں۔
مردان ٹائمز کو دیر بالا سے ملنے والی حصوصی رپورٹس کے مطابق وہاں پر حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قے اور دست کی بیماری پھیلنے لگی، جس کے باعث عشیرئی درہ ناشنامل میں دو سگے بھائی جاں بحق ہو گئے۔
قے اور دست کی پیماریوں کے پیش نظر محکمہ ہیلتھ دیربالا نے وہاں پر 20 مقامات پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرکے تقریباً 21 ہزار مریضوں کا مفت معائنہ کیا ہے۔
مردان ٹائمز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق دیر بالا کے مشہور سیاحتی مقام علا قہ عشیرئی درہ میں گزشتہ روز دو سگے بھائیوں یاسر اور شاعر ولدِ شریف مرحوم کو ا چانک قے آنے لگیں جس کے بعد ان کی موت واقع ہوئی جبکہ ان کا دوسرا بھائی ہسپتال میں دم تو ڑ گیا۔
مقامی افراد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جانبحق ہونے والے یاسر کی دو ماہ قبل شادی ہو ئی تھی جبکہ یہ بھی یاد رہے کہ جانبحق ہونے والے دونوں بھائیوں کا والد 2010ء کے سیلاب میں بہہ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔
دوسری جانب محکمہ ہیلتھ دیر بالا نے حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد پہلے دن سے امدادی سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں۔ اس حوالے سے ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر صا حبزادہ فضل بصیر کا کہنا ہے کہ سیلا ب کے بعد دیر بالا کے مختلف علا قوں میں 20 میڈیکل کیمپ قا ئم کئے جس میں طبی عملے نے تقریباً21 ہزار مریضوں کا مفت معائنے سمیت مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔
دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے اثرات سے دیر بالا میں ہیضے، قے اور دست کی بیماری پھیلنے کا شدید خد شہ لاحق ہوگیا ہے۔ انھوں نے ضلعی حکام سے اپیل کی اس حوالے سے بروقت کاروایاں کی جائے تاکہ اس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

Related Posts