افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین پر ڈراموں میں‌کام کرنے پر پابندی عائد

afghan actress banned for working in dramas

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک میں نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے، ان اقدامات کے تحت خواتین کا ڈراموں میں‌کام کرنے پر پابندی بھی شامل ہے.
مردان ٹائمز کو کابل سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے ملک میں نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق خواتین پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ڈراموں میں کام نہیں کریں گے.
طالبان کی جانب سے نئے قواعد میں یہ بھی شامل ہے کہ خواتین صحافی اور ٹی وی اینکرز اس بات کے پابند ہونگے کہ وہ ٹی وی پر آنے سے پہلے اپنا سر ڈھانپ لے. دوسری طرف افغانستان کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا خیال ہے کہ طالبان نے جو نئے قواعد و ضوابط نافذ کئے ہیں وہ مکمل طور پر واضح نہیں ہیں اور ان کی تشریح کی خاص ضرورت ہے.
افغانستان میں‌جب طالبان نے اپنا حکومت سنبھالا تو کئی لوگ یہ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ ملک میں رفتہ رفتہ خواتین کے حوالے سخت نوعیت کی پابندیاں لاگو کریں گے. کابل پر قبضے کے بعد طالبان حکومت نے خواتین اور بچیوں کے سکول جانے پر پابند عائد کر دی تھی. اس سے پہلے جب طالبان نے نوے کی دہائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت بھی طالبان حکومت نے خواتین پر پابندی عائد کردی تھی کہ کام پر نہیں جاسکتے اور ان کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی.
طالبان نے افغانستان میں ٹی وی چینلز کے لئے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اُن کی تفصیل درجہ ذیل ہے.
اسلامی قوانین یعنی شریعت اور افغان اقدار کے خلاف فلموں پر پابندی اور مردوں کے برہنہ جسم کی نمائش پر پابندی ہوگی.
مزاح کے ایسے پروگرام جس میں مذہب کی تضحیک اُڑائی جائے یا جو کسی کو ناگوار گزریں، ان پر پابندی ہوگی.
ایسی غیرملکی فلمیں جو غیر ملکی ثقافتی اقدار کا پرچار کریں، اُن کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی.
واضح رہے کہ افغانستان کا ڈراموں کا سسٹم اتنا اہل نہیں کہ اپنے ڈرامے تیار کرسکے اس لئے وہاں پر زیادہ تر غیرملکی ڈرامے نشر کیے جاتے ہیں، جن میں خواتین کا کردار مرکزی ہوتاہے.
طالبان کی جانب سے مقرر کردہ کابل شہر کے مئیر نے بھی بلدیاتی اداروں میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر ان کے کام ایسے ہو کہ وہ مرد نہیں کرسکتے تو وہ کام پر آئے ورنہ گھر پر رہین.
اُدھر افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ‘طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے اقدامات محض عارضی ہیں. ان اقدامات کا واحد مقصد تمام کام کرنے والے ادارے اور تعلیمی اداروں میں خواتین کے لئے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرناہے.

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on whatsapp

Related Posts