لاپتہ افراد کی زمہ دار وزیراعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ

Court-hammer-640

اسلام آباد: لاپتہ افراد کی کیس کے سماعت کے دوران اسلام آباد نے کہا کہ کیوں نہ کہ ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان ادا کریں؟
مردان ٹائمز کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے موصول ہونے والے تازہ ترین تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے لاپتہ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی. اس کیس کے سلسلے میں ڈاکٹر شیریں مزاری، جو کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق ہے، اسلام آباد میں پیش ہوئیں.
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شیریں مزاری سے کہا کہ ‘آپ کے اندر احساس ہے لیکن ریاست کے اندر احساس نظر نہیں آتا. سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لاپتہ ہونے والے افراد کے خواتین سڑکوں پر رُل رہی ہوتی ہیں، اس لئے ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ مُلک کے ہر شہری کے بینادی حقوق کا خیال رکھے. اُنھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ریاست کا ردعمل نہایت ہی افسوسناک ہے.
یہ خبر بھی پڑھیں: کاشتکاروں کے لئے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ریاست ایک ماں جسی ہے، اور اس کو بھی اسی طرح نظر آنا چاہیے. ماں کی طرح ان کو لیکر جائیں اور لاپتہ افراد کے خاندان والوں کو مطمئن کریں. چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے بچے بھی پیدا ہوئے، اس کی بیوی بھی دُنیا چھوڑ گئی، اس لئے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے اور اس کے والدین کو مطئن کرے. وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس متاثرہ خاندانوں کو سُنیں اور مطمئن کریں.
اس دوران شیریں مزاری نے عدالت کو کہا کہ میں مختلف اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہوں اور ان کو کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں. عمران خان بھی آمنہ جنجوعہ کے ساتھ مل کر جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں. انھوں‌نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں کہ مدثر نارو کے خاندان کے افراد ان سے ملے. جبکہ ان کے خاندان کو ماہانہ بنیادوں پر معاوضہ دینے کو ہم پراسس کر رہے ہیں.
اس دوران شیرین مزاری نے مزید کہا کہ جمہوریت میں کسی کو بھی لاپتہ کرنے کی اجازت سکی صورت نہیں ہے. انھوں نے کہا ہماری حکومت جبری گمشدگی کو ایک سنگین جرم سمجھتی ہے.
اس دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران مزید کہا کہ لاپتہ افراد کے کیس میں صرف ریاستی ادارے شامل نہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر بھی آتے ہیں. ملکی تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، اور الزام درست ہو یا غلط ذمہ داری ریاست کی کہے کہ وہ متاثرہ خاندان کو مطمئن کرے. لاپتہ افراد کے خاندان کے افراد گزشتہ تین سال سے در بدر پھیر رہے ہیں، اور اس سلسلے کو اب رُکنا چاہیے.
اس دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران مزید کہا لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے. کیوں نا ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان ادا کریں؟ تا کہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکے.
اس دوران عدالت نے حکم دیا کہ 13 دسمبر 2021 تک مدثرنارو کے خاندان والوں کو مطمئن کرے. جبکہ اسلام ہائی کورٹ نے آئیندہ سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے شیریں مزاری سے اس سلسلے میں‌جواب بھی طلب کیا ہے.

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on whatsapp

Related Posts