افغانستان معاشی بحران: غذائی قلت کے بچے روز مرتے جارہے ہیں

Mail Nutrition Children's photo 640x480

کابل: افغانستان کا معاشی بحران روز بروز بد سے بد تر ہوتا جارہاہے جس سے آدھی آبادی غذائی قلت کا شکار ہوچکی ہے، جسکی وجہ سے مائیں بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتی.
مردان ٹائمز کو کابل سےموصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں معاشی بحران روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جارہاہے. جس کی وجہ سے افغانستان کی آدھی آبادی غذائی قلت کا شکار ہوچکی ہے.
مردان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ افغانستان کی تازہ ترین معاشی بحران تباہی کی طرف جارہی ہے. انھوں نے مزید کہا کہ اگر اس سلسلے میں امدادی ادارے اپنے ساتھ دیگر امدادی اداروں کو بھی شامل کرلیں پھر بھی افغانستانکے لوگوں کی معاشی ضروریات کو پوری کرسکتے ہیں اور نہ ہی افغانستان کی جاری معاشی بحران کو قابو نہیں کیا جاسکتا.
انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی معاشی بحران صرف اور صرف عالمی برادری کے متحد ہونے سے ہی حل ہوسکتی ہے. اس لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں افغانستان کی جاری معاشی بحران کو حل کرنے کے لئے مل بیٹھ کر سنجیدگی دکھائے اور اس کا حل ڈھونڈے.
Mail Nutrition Children 640x480
آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر جنرل جو کہ اس وقت او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے پاکستان میں موجود ہیں نے مزید کہا کہ ‘اس وقت یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی بے سروسامانی اور معاشی بدحالی کا شکار ہوچکی ہے. انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم افغانستان میں ایسے لوگوں سےبھی ملے ہیں جنھوں نے اپنا سامان تک بیچ دیا ہے تاکہ اپنے بچوں کو کھانا کھلا سکیں. اس حوالے سے مزید بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ معاشی بحران اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اس وقت سرکاری اور نجی اداروں کے چھ لاکھ سے زائد کے ملازمین تتخواہوں کے لئے منتظر ہیں.
دوسری جانب افغانستان کے 9 بلین سے زائد کے زرمبادلہ کے زخائر امریکہ منجمد کرچکا ہے. جبکہ طالبان کے افغانستان میں انے کے بعد مالی امداد بھی بند ہوچکی ہے. ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے. اس کے علاوہ افغانستان کی آدھی آبادی غذائی قلت کا شکار ہوچکی ہے.

Related Posts