فرانس کے صدر نے اصلاحات کے نام کے پیچھے اسلام مخالف ایجنڈے کے نفاذ کا منصوبہ پیش کردیا

French President Emmanuel Macron-640x480
فوٹو: فائل

پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون جو کہ اسلام مخالف بیانات دینے کے لئے مشہور ہے نے انتہاپسندی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور اس حوالے سے فورم آف اسلام ان فرانس نامی ادارہ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے.
مردان ٹائمز کو پیرس سے تازہ ترین خبروں کے مطابق اسلام دشمنی کے حوالے سے مشہور فرانس کے صدر ایما نوئیل میکورون نے ملک میں 2003 سے قائم شدہ ‘کونسل آف مسلم فیتھ’ کی ایک نیا ادارہ ‘فورم آف اسلام ان فرانس’ بنانے کا اعلان کیا ہے.
اس حوالے سے فرانسیسی وزارت داخلہ کی طرف سے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ‘کونسل آف مسلم فیتھ’ جو کہ 2003 سے قائم کیا گیا تھا کو رواں ماہ تحلیل کردیا جائے گا اور اس کی جگہ نیا ادارہ ‘فورم آف اسلام ان فرانس’ لے گی.
یہ خبر بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات پر حملہ کرنے والے حوثی باغیوں کے خلاف پیٹریاٹ میزائل استعمال کئے، امریکہ
فرانسیسی صدر کی طرف سے نیا قائم شدی ادارے میں امام مسجد، سول سوسائٹی کی بااثر شخصیات، خواتین، دانشوروں سمیت کاروباری رہنما بھی شامل ہوں گے. ادارے میں ان ارکان کو فرانسیسی حکومت کی طرف سے منتخب کیا جائے گا. اس حوالے سے فرانس حکومت کا موقت بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق اس کونسل کی بنانے کا مقصد اسلام سے انتہا پسندی کو ختم کرکے اس کو فرانس کے کے سیکولرازم کے قالب میں ڈھالنا ہے جس میں سب سے اہم بات فرانسیسی ہونا ہے.
دوسری جانب فرانسیسی صدر کے ناقدین کا یہ اصرار ہے کہ ایمانوئیل نے یہ اقدام فرانس میں اپریل میں ہونے والے صدارتی انتحابات میں دائیں بازہ کے ووٹروں کو خوش اور ان کو راغب کرنے کے لئے اٹھایا ہے.
اُدھر فرانس میں رہنے والے 50 لاکھ سے زائد مسلمانوں کے بڑے بڑے رہنماؤں نے فرانسیسی صدر کی طرف سے تشکیل کردہ اس کونسل کی شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے اس کے خلات احتجاج کیا جائے گا.
اس حوالے سے مسلمانوں کے رہنماؤں کا بیان سامنے آیا ہے جس کے مطابق فرانسیسی حکومت اس کونسل کے مدد سے انتہا پسندی کو صرف اور صرف اسلام سے جوڑنا چاہتی ہے.
اس حوالے سے مسلمانوں کے رہنماؤں نے میڈیا سے بات کی ہے اور اپان موقف پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان انتہا پسند نہیں بلکہ خود بھی انتہا پسندی کا شکار ہے. انھوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندی ہر ایک مذہب میں پائی جاتی ہے. اس لئے اس مسئلے کو رنگ، مذہب، نسل اور زبان سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی اشد ضرورت ہے.

Related Posts