نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ہی عام انتحابات ہوسکتے ہیں- خواجہ آصف

Khwaja Asif PML N 640x480
خواجہ آصف، رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل بھی عام انتحابات ہوسکتے ہیں. اور اگر فیض حمید کا نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو ان کے آرمی چیف کی تعیناتی پر بھی ضرور غور کیا جائے گا.
مردان ٹائمز کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹریو میں کہا ہے کہ اسی سال پاک فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے قبل ہی ملک میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں اور اس بات کے امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا. انھوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ممکن ہے اور ہو سکتا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے ہی عام انتخابات کروا دیے جائیں.
وزیردفاع کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات بھی ہوسکتا ہے کہ نومبر کے مہینے سے قبل ہی نگران حکومت بن جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نگران حکومت نومبر سے پہلے چلی جائے اور نئی حکومت بھی بن جائے.
وزیردفاع خواجہ آصف نے برطانوی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں مزید کہا کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہے اور نہیں چاہتے کہ ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کی جائے. انھوں نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ خود ہی اس کا اعلان کر چکے ہیں کہ انھیں مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں چاہیے.
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف کا یہ بیان اور اعلان واقعی خوش آئند ہے، جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے بارے میں قیاس آرائیوں کے دروازے بند ہوئے ہیں. انھوں نے انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ اسے سے پہلے جنرل راحیل شریف نے بھی اپنے مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
پاکستانی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے مزید کہا کہ عدلیہ کی طرح ملک میں فوجی سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی ’انسٹی ٹیوشنلائز‘ ہونا چاہیے. انھوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں کوئی دو رائے اور قیاس آرائی نہیں ہوتی، ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ 2028 میں کس نے چیف جسٹس بننا ہے. انھوں کہا کہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے کو ہر گز سیاسی بحث کا موضوع نہیں بنانا چاہیے.
وزیردفاع نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی 100 فیصد میرٹ پر ہونا چاہئے۔ اس موقع پر وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان چاہتے تھے کہ ان کی مرضی کا آرمی چیف تعینات ہو، تاکہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کو ہر صورت میں تحفظ یقینی بنایا جا سکے. انھوں نے کہا کہ یہ بات وزیر اعظم کی اختیا ہے کہ فوج کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں سے کسی ایک کو منتخب کرے. خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس سے پہلے یعنی 2013 اور پھر 2016 میں دو آرمی چیفس کی تعیناتی مکمل کی گئی. لیکن اس وقت کے منتحب شدہ وزیر اعظم نے میرٹ کو دیکھتے ہوئے فیصلے کیے. انھوں نے کہا اس وقت فوجی محکمے کی طرف سے ریکمنڈڈ ناموں کا مکمل احترام کیا گیا.
کور کمانڈر پشاور فیض حمید کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ اگر فیض حمید کا نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو ان کے آرمی چیف کی تعیناتی پر ضرور غور کیا جائے گا. انھوں نے کہا لسٹ میں موجود ان سب ناموں پر غور ہو گا جو اُس وقت فہرست میں شامل ہوں گے.
وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ لندن کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا نوازشریف نے وزیراعظم کی ملاقات کا سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں. انھوں نے مزید کہا کہ لندن کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا. انھوں نے کہا وہ لندن دورے پر اس لئے اس وقت جارہے ہیں کہ پہلے ہمیں موقع نہیں مل سکا تھا جبکہ اب موقع مل گیا اس لئے اب ہم جارہے ہیں.

Related Posts