پیٹولیم مصنوعات کے بعد بجلی کی قیمت میں 4 روپے اور 83 پیسے فی یونٹ اضافہ

Electricity Polls-640x480
بجلی کے پول۔ فوٹو: فائل

کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے بجلی کی قیمت میں بھی 4 روپے اور 83 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے.
مردان ٹائمز کو ملنے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق نیپرا نے کے الیکٹرک کے مارچ کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بھی 4 روپے اور 83 پیسے کا اضافہ کردیا ہے. گزشتہ رات حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی یونٹ کا زبردست اضافہ کردیا تھا.
مزید تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط اور مطالبات پر عمل درآمد جاری ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا ہے. کے الیکٹرک کے مارچ کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا کی جانب سے 4 روپے 83 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے. نیپرا نے اس حوالے سے ایک باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
نیپرا کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن صارفین پر ہوگا۔ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک نے نیپرا کو 5 روپے 27 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی. اس حولاے سے نیپرا اتھارٹی نے 27 اپریل 2022ء کو ایف سی اے پر عوامی سماعت کی تھی. نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری کا ایف سی اے صارفین سے 1 روپے 38 پیسے چارج کیا گیا تھا اور یہ ایف سی اے صرف 1 ماہ کے لیے تھا. نیپرا کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مارچ کا ایف سی اے فروری کی نسبت 3 روپے 45 پیسے جون میں زیادہ چارج کیا جائے گا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اطلاق صرف جون کے ماہ کے بلوں پر ہوگا۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل مانٹری فنڈ اور حکومت پاکستان کے درمیان دوحہ میں‌ہونے والی حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے یہ واضح الفاظ میں کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بغیر پاکستان کو معاشی پیکیج دینے سے صاف انکار کیا تھا. اس لئے موجودہ حکومت کو مجبوری میں یہ اقدام اٹھانا پڑ رہا ہے.

Related Posts