بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 8 روپے تک اضافہ

electricity-pillars-640x480
فوٹو: فائل

پاکستان میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی طرف سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 90 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔
مردان ٹائمز کے مطابق نیپرا کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں تقریباً 8 روپے کا اضافہ کی منظوری دے دی گئی ہے. نیپرا کی جانب سے یہ اضافہ مئی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، جبکہ اس حوالے سے نیپرا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گا۔
مزید تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرانک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی حکام نے بتایا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس لئے اگر ہم بجلی بنانے کے لئے مہنگے فیول استعمال کرتے تو اس سے مزید اضافہ ہوتا۔
اس حوالے سے سی پی پی اے حکام نے موقف پیش کیا اور کہا کہ عالمی سطح پر فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں. سی پی سی حکام نے مزید کہا کہ پہلے عالمی سطح پر کوئلہ کی قیمت بہت سستا تھا لیکن روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ جاری جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر کوئلہ بہت زیادہ مہنگا ہوا ہے۔
سی پی پی اے حکام نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جولائی کے آخر کے لیے 42 ڈالر قیمت پر ایل این جی کارگوز مل رہے ہیں اور اس کو اگر ہم پاکستان کی موجودہ معاشی اور اقتصادی حالات کے تناظر میں دیکھیں تو انھیں خریدنا ناممکن ہے. انھوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی معاہدے کے تحت بھی ایک کارگوز کینسل کردیا گیا ہے۔
ملک میں بجلی کی قیمتں بڑھانے کے حوالے سے چئیرمین نیپرا نے کہا کہ ہم کچھ کریں تو بھی پھنسیں اور وہی صورتحال ہے، انھوں نے کہا کہ اگر ہم بجلی نہ بنائیں تو لوڈشیڈنگ اور بنائیں تو مہنگی والی صورتحال ہے. انھوں نے کہا کہ چھ سات روپے والی بجلی کے پلانٹس چلوانے پر نیپرا کی مخالفت کی گئی تھی، انھوں نے کہا کہ اللہ کا واسطہ ہے اب درآمدی فیول پر پلانٹس نہ لگائیں۔

Related Posts