بھارت میں زہریلی شراب پینے نے تباہی مچادی، 21 افراد ہلاک

wines-bottles_640

پٹنہ: بھارتی ریاست بہار میں ایک شراب خانے میں لوگوں کو زہریلی شراب پلانے سے کم از کم 21 افراد ہلاک جب کہ کئی لوگوں کی بینائی بھی ختم ہوئی ہیں.
مردان ٹائمز کو بھارتی مشرقی ریاست بہار سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں پر جعلی شراب پینے سے 21 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں، لیکن دوسری طرف مقامی افراد اور صحافی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہیں.
بہار کے ایکسا ئز کے وزیر سنیل کمار نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ چمیاران میں زہریلی شراب پینے سے کم سے کم 10 لوگ ہلاک جبکہ گوپال گنج میں زہریلی شراب پینے والوں کی تعداد کم سے کم 11 ہے. اس واقعے کے بعد وہاں پر تعینات متعلقہ پولیس آفیسر کو بھی معطل کیا گیا ہے. اور پولیس نے کئی جگہوں پر چھاپہ مار کاروائیاں شروع کی ہیں. سنیل کمار نے مزید بتایا کہ ان ہلاک شدگان کی پوسٹ ماٹم کے بعد پتہ چلے گا کہ کیا ان کی اموات نشہ آور شراب پینے سے ہوئی ہیں؟
واضح رہے کہ گوپال گنج میں زہریل شراب پینے سے اموات کا سلسلہ نومبر کے دوسرے دن سے جاری ہے. اسی طرح چمیارن میں‌ان اموات کا سلسلہ نومبر کے تیسرے دن سے شروع ہوا ہے اور ابھی تک جاری ہے. مردان ٹائمز کو جو تازہ ترین اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق ہلاک شدگان کا تعلق زیادہ تر دلت برادری سے ہے. جبکہ زہریلی شراب سے نہ صرف اموات ہوئی ہیں بلکہ کئی لوگوں کی آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی ہیں.
بھارت کے جن علاقوں میں یہ حادثات پیش آئے ہیں وہ زیادہ تر دریائے گنڈک کے کنارے پر واقع ہیں اور یہ علاقے زیادہ تر وہ علاقے ہیں جہاں پر حکومتی اداروں کی کاروائیاں نسبتاُ کم ہی ہوتی ہے. اور عالباُ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر شراب آسانی کے ساتھ دستیاب ہے.

Related Posts