امریکہ کی یوکرین پر مذاکرات سے قبل چین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش

US President Joe Biden

واشنگٹن: امریکہ یوکرین اور روس جنگ کے معاملے پر مذاکرات سے پہلے چین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ روس کو فوجی امداد نہ دے سکے.
مردان ٹائمز کو واشنگٹن سے ملنے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق امریکی حکام کوشش کررہے ہیں کہ چین پر یوکرین جنگ پر مذاکرات سے قبل دباؤ ڈالا جاسکے تاکہ وہ روس کو ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم نہ کرسکے.
ماہرین کے مطابق اگر اس وقت یوکرین جنگ میں یورپی یونین اور امریکہ یوکرین کو فوجی مدد فراہم کررہے ہیں اور دوسری طرف چین روس کو اسی قسم کی فوجی امداد فراہم کرنا شروع کرے تو اس جنگ کے مزید خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں.
امریکہ نے اس حوالے سے ایک اہم پیغام بھی جاری کیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر چین کے سب سے سینئر سفارتکار سے ایک اہم ملاقات کرنے والے ہیں. اس قسم کی حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جتنا بھی ہوسکے چین پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ روس کی طرف سے امداد کے مطالبے کی خبروں کی تردید یا تصدیق کرے.
یہ خبر بھی پڑھیں: روس نے چین سے فوجی امداد طلب کرلی، امریکہ حکام
چین کے صدر شی جن پنگ نے روس کے ساتھ تعلقات کو ‘چٹان جتنا مظبوط’ قرار دیا تھا، اس لئے اس حکمت عملی کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ چینی صدر اپنی موجودہ پوزیشن کے تقصانات اور فائدے کو صہیح طرح سے جانچیں. روس اور چین کے درمیان تعلقات کی مظبوطی کا اشارہ بیجنگ میں سرمائی اولمکس مقابلوں کے دوران بھی دیا گیا تھا جب چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا تھا کہ ان کے اتحاد کی کوئی حدود نہیں ہے.
اُدھر چین نے یوکرین میں روس مداخلت کے کچھ دنوں بعد برطانیہ، یورپی ممالک اور امریکہ کی طرف سے یوکرین کو فوفی ہتھیار فراہم کرنے کے اعلان کی مذمت کی تھی اور کہا تھا اس سے صورتحال مزید گھمبیر ہوسکتی ہے.
لیکن حال ہی میں امریکہ انٹیلجنس حکام کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین روس کی فوجی امداد کرنے والا ہے تو ایسی میں حالات مزید تصادم اور پیچیدہ طرف جاسکتے ہیں.

Related Posts