افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں ٹی وی اینکر سموسے بیچنے پر مجبور

afghan journalist Mosa Mohammadi 640x480
افغانستان میں شدید اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے کروڑو عوام کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ فوٹو: فائل

کابل: افغانستان میں طالبان کے موجودہ دور حکومت میں افغانستان کی حکومت کو شدید معاشی اور سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے. جبکہ اس حوالے سے اقوام متحدہ نے بھی بار بار خبردار کیا ہے کہ وہاں پر حالات کسی بھی وقت کنٹرول سے باہر جاسکتے ہیں.
مردان ٹائمز کو کابل سے ملنے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے وہاں پر معاشی اور سیاسی حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں. اس سلسلے میں ایک تازہ خبر آئی ہے کہ افغانستان میں سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والے کبیرنے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پوسٹ شئیر کی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کابل میں کبیر جیسےکتنے باصلاحیت اور پیشہ وار افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔


اس حوالے سے مزید خبروں کے مطابق ٹویٹر پر کبیر نے ایک افغان صحافی موسیٰ محمدی کی ایک تازہ تصویر شیئر کی ہے. انہوں نے اپنے ٹویٹر پوسٹ میں یہ کہا ہے کہ چند سال پہلے موسیٰ محمدی میڈیا چینلز کے ساتھ وابستہ تھا، لیکن افغانستان میں موجودہ ساسی اور اقتصادی بحران کی وجہ سے اب وہ گھر کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے سڑک پر سموسے فروخت کررہا ہے۔
کبیر نے اس اپنے ٹویٹر پوسٹ میں اس حوالے سے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ موسیٰ محمدی کئی سال تک مختلف ٹی وی چینلز میں بطور اینکر اور رپورٹر کام کیاہے، لیکن اب ان کے پاس اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے کوئی پیسے نہیں ہے اور کچھ پیسے کمانے کے لیے سموسے بیچنے پر مجبور ہیں’۔


اپنے ٹویٹر پوسٹ میں‌انھوں نے مزید کہا ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کے خاتمے کے بعد افغان عوام غیر معمولی غربت کا شکار ہیں۔ جیسے ہی سابق اینکر اور رپورٹر موسیٰ محمدی کی کہانی انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تو نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر جنرل احمد اللہ واثق نے اسے حوالے سے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹوئٹ شیئر کی جس میں انھوں نے کہا کہ موسیٰ کو اپنے محکمے میں تعینات کریں گے۔

Related Posts