افغانستان خودکش حملہ: طالبان کے اہم رہنما شیخ رحیم اللہ شہید

Shekh Reheemullah Haqani Taliban Leader Photo File 640x480
شیخ رحیم اللہ حقانی، افغان طالبان کے اہم رہنما۔ فوٹو: فائل

کابل: افغاسستان کے دارلخلافہ کابل کے ایک مدرسے میں افغان طالبان کے ایک سرکردہ اور اہم رہنما شیخ رحیم اللہ حقانی مبینہ خودکش حملے میں شہید ہوگئے۔
مردان ٹائمز کو افغانستان سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارلخلافہ کابل کے ایک مدرسے میں خودکش دھماکے میں افغان مدارس کے ڈائریکٹر رحیم اللہ حقانی جاں بحق ہوگئے۔
یہ مبینہ خودکش حملہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقعہ مدرسے میں ہوا جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے سرکردہ رہنما اور نامور عالم دین اور افغان مدارس کے ڈائریکٹر شیخ رحیم اللہ حقانی جان کی بازی ہارتے ہوئے شہید ہوگئے۔
مردان ٹائمز کو اس حوالے سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد اپنی مصنوعی ٹانگ میں چھپا رکھا تھا۔ اس حوالے سے افغان طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس خودکش دھماکے کے نتیجے میں جانبحق ہونے والی افراد کا حتمی تعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
افغان طالبان نے اس خودکش دھماکے کے نتیجے میں شیخ رحیم اللہ حقانی کی موت پر گہرے غم اور درد کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اُن کی موت اسلامک امارات افغانستان کیلئے بڑا نقصان ہے۔
اس سے پہلے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ اس مبینہ خودکش دھماکے میں شیخ رحیم اللہ کا بھائی شیخ نقیب اللہ شہید ہوگئے ہیں لیکن بعد میں افغان طالبان کے ایک ترجمان بلال کریمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’شیخ رحیم اللہ حقانی دشمن کے حملے میں‘ شہید ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان کے یہ سرکردہ رہنما شیخ رحیم اللہ حقانی افغان طالبان کے زبردست حامی جبکہ نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے شدید مخالف تھے۔ اس حوالے سے جو اطلاعات ہیں اس کے مطابق کابل میں جس مدرسے میں خودکش دھماکہ ہوا ہے یہ مذکورہ مدرسہ رحیم اللہ حقانی کا ہی تھا اور وہ ہی اس خودکش حملے کا نشانہ تھے۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات کے مطابق افغان اسلام پریس کے کنہا ہے کہ ‘انھوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جہاد کرنے کا فتویٰ دے رکھا تھا’۔

Related Posts