افغانستان میں تیل نکالنے کے لئے طالبان حکومت اور چین کےدرمیان پہلا بین الاقوامی معاہدہ طے

China and afghanistan oil and gas agreement photo Jang news 640x480_11zon
Afghanistan and China oil and gas agreement. Photo: Jan News

کابل: افغانستان میں چین اور طالبان حکومت کے درمیان افغانستان میں تیل نکالنے کے لئے ایک معاہدے پر دستختط ہوگئے جس سے افغانستان میں شہریوں کو تقریباً 3000 نوکریاں ملے گی۔
مردان ٹائمز کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت اور چین کے درمیان افغانستان کے شمالی علاقے دریائے آمو کے قریب تیل نکالنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں جو کہ اس طرز کا پہلا بین الاقوامی معاہدہ ہے۔
اس حوالے سے افغانستان میں طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے کہا کہ چین کی تیل اور گیس کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ 25 سال کیلئے کیا گیا ہے جو سرکاری کارپوریشن کا حصہ ہے۔ انھوں نے مزہد کہا کہ اس معاہدے کی رو سے چینی کمپنی متعلقہ علاقے میں ساڑھے 4 ہزار کلومیٹر کے علاقے سے تیل نکالے گی۔
طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ معاہدے کے مطابق افغانستان میں تیل نکالنے کی یومیہ مقدار ایک ہزار سے دو ہزار کلومیٹر تک بڑھائی جائے گی۔ معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی سال میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو اگلے تین سالوں میں بڑھ کر 54 کروڑ ڈالر ہوجائے گی۔
منصوبے کی شراکت داری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ منصوبے میں طالبان حکومت کو 20 فیصد کی شراکت داری حاصل ہے، جوکہ اگلے سالوں میں مزید بڑھ کر 75 فیصد ہوسکتی ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کو 25 سالہ معاہدے سے 15 فیصد رائیلٹی بھی حاصل ہوگی۔
معاہدے سے متعلق افغان طالبان ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دریائے آمو سے نکلنے والا تیل افغانستان میں ہی ریفائن کیا جائے گا، اور اس کی وجہ سے افغانستان بہت جلد تیل کے حوالے سے خود کفیل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بڑے منصوبے سے تقریباً 3 ہزار افغان شہریوں کو ملازمت کے مواقع بھی ملنے کا قومی امکان ہے۔
افغانستان اور چین کے درمیان حالیہ ہونے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں طالبان حکومت کی طرف سے نائب وزیراعظم برائے معاشی امور مُلا عبدالغنی برادر نے کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے افغانستان کی معیشت مضبوط ہوگی اور تیل پر خود انحصاری میں اضافہ ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

Related Posts