ترکی کی جانب سے ٍایف-16 طیاروں کی خریداری پر اُردگان اور بائیڈن کے درمیان کشمکش جاری

Joe Biden & Erdogan Meeting 640x400

روم: اٹلی کے دارالحکومت میں جی-20 ممالک کے کانفرنس میں طیب اُردگان نے امریکی صدر بائیڈن سے ملاقات کے دوران جنگی طیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کردیا.
مرران ٹائمز کو روم، اٹلی سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اٹلی میں جاری جی-20 ممالک کے کانفرنس کے دوران ترکی کے صدر اُردگان اور امریکی صدر بائیڈن کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ترک صدر نے اپنے امریکی ہم منصب سے ایف-16 جنگی طیاروں کی فراہمی کا مطالبہ سامنے آیا ہے.
تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ کی صورتحال ابھی تک برقرار ہے.
جی-20 اجلاس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ترکی صدر نے امریکی صدر سے ملاقات کی اور اس دوران دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا اشارہ بھی دیا ہے. اس دوران امریکی صدر بائیڈن نے اپنے ترک ہم منصب کو اپنے خدشات اور تحفظات سے بھی آگاہ کیا. امریکی صدر نے اُردگان سے روس سے ایس-400 دفاعی نظام کی خریداری روکنے کا اپنا پرانا مطالبہ بھی دُہرایا دیا ہے.
یہ خبر بھی پڑھیں: خطے میں امریکی موجودگی قابل قبول نہیں- روسی نائب وزیرخارجہ
اس ملاقات میں ترک صدر کی جانب سے امریکی سفارتکاروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے انقرہ سے ملک بدر کرنے کے معاملہ بھی زیر بحث آیا اور اس حوالے سے بھی کافی بات چیت ہوئی. یاد رہے کہ اس سے پہلے ترکی کے صدر طیب اُردگان نے امریکی سفیر سمیت دیگر دس مغربی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شحصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا کہا تھا. ترکی کی جانب سے یہ انتہائی قدم اُٹھانے پر ان سفارتکاروں نے معافی مانگی تھیں اور اس کے بعد ترک صدر نے ان سفارت کاروں کے بیان کا خیرمقدم کیا تھا اور اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا.
واضح رہے کہ ترکی نے امریکہ ایف-16 طیاروں کے لیے مطلوبہ رقم بھی پہلے ہی ادا کرچکا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ طیاروں اور اس کی تربیت سے انکار کرتا رہا ہے. امریکیوں کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ترکی روس سے ایس-400 دفاعی نظام خریدنے کے معاہدے کو ترک کردے.

Related Posts