کوئٹہ میں ڈرائیور نے جان پرکھیل کرجلنے والے آئل ٹینکر کو آبادی سے کئی کلومیٹر دور لے گیا

Oil Tanker burning in Quetta Photo Saeed Ahmed Shahwani & BBC Urdu 640x480
کوئٹہ میں ڈرائیور نے جان پر کھیلتے ہوئے جلنے والے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے گیا۔ فوٹو: بی بی سی اردو

کوئٹہ: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں محمد فیصل نامی ڈرائیور نے جلنے والے آئل ٹینکر کو آبادی اور پیٹرول پمپ سے دور لے جاکر نہ صرف آبادی کو بجایا بلکہ پیٹرول پمپ کو بھی بچایا، اور اسی بنا پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان کے لئے پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے.
ہم سب کو پتہ ہے کہ پیٹرول کی تیل کتنا خطرناک آتش گیر مادہ ہے اور جب تیل سے بھرے آئل ٹینکر کو آگ لگ جائے تو کوئی زیشعور انسان اس آئل ٹینکر کے قریب بھی نہیں جاتا. اور ہر کوئی وہاں سے بھاگ جاتا ہے. کیونکہ اس سے پہلے 2017 میں پاکستان ہی کے ایک اور شہر بہالپور میں اس قسم کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس میں 139 افراد موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتر گئے تھے.
مردان ٹائمز کے مطابق منگل کے روز کوئٹہ میں ایک خطرناک اور دلچسپ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب ایک پیٹرول پمپ پر آئل ٹینکر، جس میں 10 ہزار لیٹر پیٹرول موجود تھا، کو آگ لگ گئی جس کو آئل ٹینکر کے ڈروائیور محمد فیصل نے آبادی سے دور لے جا کر نہ صرف پیٹرول پمپ بلکہ آبادی کو بھی بچا لیا ہے. ڈروائیور کی بہادری کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان کے لئے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے.
یہ گزشتہ منگل کی بات ہے کہ جب کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ایک آئل ٹینکر سے پیٹرول پمپ منتقل کررہے تھے کہ اس دوران اس میں آگ کے شدید شعلے بھڑک اٹھے. مقامی لوگوں کے مطابق ڈرائیور محمد فیصل نے جب آئل ٹینکر کے ساتھ پیٹرول پمپ کو تیل منتقل کرنا شروع کیا تو وہ پانی پینے کے لئے نزدیکی واٹرکولر گئے ہوئے تھے اور آئل ٹینکر سےتھوڑے فاصلے پر تھے۔ تیل متقل کرنے کے دوران جب آئل ٹینکر کو آگ بھڑک اٹھی تووہاں پمپ پر موجود ہر شخص کو اپنی جان کی فکر ہونے لگی اور ہر طرف بھاگ گئے.
وہاں پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈرائیور محمد فیصل کے پاس دو ہی راستے تھے: پہلا راستہ تو یہ تھا کہ وہ بھی اپنی جان کی فکر میں سب سے پہلے وہاں سے بھاگ جاتے اور آئل ٹینکر سے دور چلے جائے اور یا اسے چلا کر آبادی اور پیٹرول پمپ سے دور لے جائیں. لیکن انھوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیردوسرے راستے کو منتخب کیا اور اس بڑے حادثے کو ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے میں بدلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہاں پرموجود لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ڈروائیورمحمد فیصل کو یہ بتہ چل گیا کہ آئل ٹینکر کو آگ لگی ہے تووہ بغیر کسی خوف کے دوڑ کر گاڑی میں بیٹھ گئے اورآئل ٹینکر کواسٹارٹ کیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے.
ڈروائیور محمد فیصل کی اس بہادری پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ان کے لئے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعے سے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’آگ میں لپٹے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے جانے کی ہر ساعت کو زندگی کا آخری لمحہ سمجھتا رہا مگر زندگی باقی تھی اس لیے موت کے قریب ہونے کے باوجود بچ گیا۔‘
ڈرائیور محمد فیصل نے اس موقع پر اپنی جان کی پروا کئے بغیر باوجود اس کے کہ ان کو پتہ تھا کہ آئل ٹینکر کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس سے انکی جان چلی جاسکتی ہے، نے پیٹرول سے بھرے آئل ٹینکر کو تین کلومیٹر دور تک لے جانے میں کامیاب رہے۔
اس واقعے کے بارے میں انھوں نے ایک غیرملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ "یہ شاید ان کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہو گا کیونکہ اس دوران ان کی چھوٹی سی غفلت یا غلط فیصلہ سب سے پہلے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا لیکن وہ اس بات پرنہایت ہی حیران ہیں کہ موت کی جانب تیز رفتاری سے بڑھنے کے باوجود وہ کیسے خوفزدہ نہیں ہوئے اوردرست اقدامات کرتے رہے”۔
ڈرائیور محمد فیصل کی بہادری پر پیٹرول پمپ کے مالک سعید احمد شاہوانی بھی ان سے نہایت ہی خوش ہیں. پمپ کے مالک نے کہا کہ محمد فیصل نے کہ ثابت کیا کہ وہ حقیقی طور پر ہیرو ہیں. پمپ کے مالک نے مزید کہا جب آئل ٹینکرسے تیل پمپ کو منتقل کیا جارہا تھا تو اس وقت ٹینکر میں 10 ہزار لیٹر کا تیل موجود تھا اور اگر خدانخواستہ یہ وہاں پر تباہ ہوجاتا تو اس کی زد میں کئی لوگ آجاتے اور پمپ کو بھی کافی نقصان پہچ جاتا.
پمپ کے مالک نے کہا کہ پمپ اور اس کے نزدیک آگ بجھانے کے لیے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ٹینکر اوراس میں موجود پیٹرول نے تو ویسے جلنا ہی تھا لیکن ان کے ساتھ ساتھ خود پیٹرول پمپ میں بھی آگ بھڑکنے کے زیادہ امکانات تھے. انھوں نے کہا یہ ڈرائیور محمد فیصل کی حاضردماغی اور بہادری تھی جس کی وجہ سے نہ صرف کئی لوگ بلکہ پیٹرول پمپ بھی بچ گیا. انھوں نے ڈرائیور محمد فیصل کی بہادری کی تعریف کی اور کہا ایسے مناظرتو ہم صرف اور صرف ہالی وڈ فلموں میں دیکھتے رہے ہیں لیکن یہ ایک حقیقی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
اس واقعے کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے پمپ کے مالک نے کہا کہ ’یہ ایک ایسا وقت تھا کہ جس میں آگے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا. اس کے علاوہ آئل ٹینکر کو ریورس کیے بغیر بھی ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، اور یہی وجہ تھی کہ سب سے پہلے انھوں نے ٹینکر کو ریورس کیا اور اس کے بعد اس کو آگے لے گیا۔‘
انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک کھلی جگہ پیٹرول پمپ کے قریب بھی تھی مگر جب وہ اس خالی جگہ پر پہنچے تو وہاں پر ایک موٹر کار اور ایک سوزوکی پک اپ آ گئیں جس کی وجہ سے اُنھوں نے ٹینکر کو وہاں نہیں روکا. انھوں نے کہا کہ اگر ڈرائیور وہاں پر رکھتا تو اس صورت میں دونوں گاڑیوں اور ان میں سوار افراد کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
پمپ کے مالک نے اس واقعے کی آنکھوں دیکھا حال مزید بیان کرتے ہوئے کہا اس وقت ان کے پاس واحد راستہ یہ تھا کہ اس جلتے ہوئے ٹینکر کو آبادی سے جتنا ممکن ہو اس کو دولے جائے۔ اس دوران جب ڈرائیور نے آئل ٹینکر کوآبادی سے دور لے گئے تو اس وقت ٹینکر کا پچھلا حصہ کافی حد تک آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا اور اسے کافی نقصان پہنچ چکا تھا اس لئے اب اسے مزید دور لے جانا ان کے لیے بالکل نا ممکن تھا۔ اب ڈرائیور محمد فیصل کو اس وقت ایک اور مشکل یہ پیش آئی کہ جب اُنھوں نے بریک پر پاﺅں رکا تو اس وقت بریک بالکل کام نہیں کر رہا تھا۔
انھوں نے اس دلچسپ واقعے کے بارے میں مزید کہا کہ اس وقت آئل ٹینکر کی رفتار 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ جب بریک فیل ہوگئی اور دوسری طرف آئل ٹینکر کی رفتاربھی بہت زیادی تھی تو محمد فیصل نے ایک بار پھرکمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے پہلے اسے تیسرے گیئر میں ڈالا، پھر دوسرے اور پھر پہلے گیئر میں ڈالا اور پھر انجن آف کر دیا اور اس کے بعد ٹینکر رک گیا۔
ڈرائیور محمد فیصل اس بات پر نہایت خوش ہے کہ کہ ایک انسان ہونے کے ناطے انھوں نے نہ صرف دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو بچایا بلکہ اپنے مالکان کے مالی نقصانات کو بھی نہایت کم سے کم کرنے کے لیے ان سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ اُنھوں نے کرنے کی کوشش کی۔

Related Posts