بی جے پی کی بھارتی جنونی اور اسلامی دُنیا کا ردعمل- محمد رضا

ویسے تو بھارت میں شروع سے ہی تمام اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے۔ اس میں عیسائی، یہودی، سکھ سب شامل ہیں لیکن مسلمان سب سے زیادہ اسی ناروا سلوک کا شکار آرہے ہیں۔ بھارتی میں ہندو انتہاپسندی اپنی عروج کو پہنچ چکی ہے اور اس میں روز بروز انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔
اس حوالے سے امریکہ نے بھی بھارتی حکومت کو کئی بار خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھنے والا رویہ انتہائی نامناسب ہے اور بھارتی حکومت اس حوالے سے ضروری اقدامات اُٹھائے لیکن اس وقت چونکہ وہاں پر ایک انتہاپسند جماعت بی جے پی برسراقتدار ہے اس لئے وہ کسی کی بھی بات اور دھمکیاں خاطر میں نہیں لاتا۔ بھارت میں اس وقت کسی بھی اقلیت کو تحفظ حاصل نہیں ہے نہ ہی عیسائی نہ یہودی اور نہ ہی مسلمان ہندو انتہاپسند اور جنونیوں کے غیض و غضب سے آزاد نہیں ہے۔ بھارت میں ہرروز کبھی عیسائیوں کے چرچاگھروں پر حملے ہوتے ہیں تو کبھی ان کے اسکولوں پر۔ اسی طرح مسلمان تو روز اول سے ہی ان کے غیض وغضب کے شکار ہیں۔
5 جون 2022 کو بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی ایک قومی سطح کی ترجمان نوپور شرما نے پیغبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایک منتازع بیان جاری کیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بھارت بلکہ پوری اُمت مسلمہ میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ بھارتی جنونیوں کی نبی پاک صلیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ ؐکے خلاف توہین آمیز بیان کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھ رہا ہے۔
اتوار کے روز قطر حکومت نے بھی اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور قطر کی وزارت خارجہ نے دوحہ میں بھارتی سفیر دیپک متل کو طلب کرکے بھارت سے اس معاملے پر معافی مانگنے کامطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں قطر کی وزارت خارجہ نے بھارتی سفیر کو قطری حکومت کا ردعمل کا سرکاری نوٹ بھی حوالے کیا ہے۔ قطر کی حکومت نے اس سلسلے میں جو بیان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ قطر کی حکومت بھارت کی حکمران جماعت کی رہنما کے متنازع بیان پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی جنونیوں کے پیغبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیان پر کویت کی حکومت نے بھی اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کویتی حکومت نے بھی بھارتی سفیر کو دفترخارجہ طلب کرکے اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس توہین آمیز بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھی یہ بیان سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے اور وہاں پر لوگ بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے امت مسلمہ اور خاص طور پر خلیجی ممالک سے آنے والے شدید ردعمل کے نتیجے میں بھارتی جنتا پارٹی نے نوپور شرما کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کردی ہے ۔ لیکن بات صرف رکنیت معطل کرنے کی نہیں ہے بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے تاکہ آئیند کوئی اور اس طرح کا حرکت کرنے کی جراءت نہ کرے۔ بھارتی حکومت کے کارندوں نے اسلام کے خلاف کاروائیوں کو مذاق بنادیا ہے۔ اگر یہی حالت رہی اور حکومت نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے تو بہت جلد وہاں پر لوگ مجبور ہونگے کہ خود اپنا حال نکالے۔
یہاں یہ توہین نہ صرف بی جے پی کے ترجمان نوپور شرما کی طرف سے کی گئی ہے بلکہ اس میں اسی انتہا پسند بی جے پی پارٹی کاایک اور آدمی بھی شامل ہے جس کا نام نوین کمار جندال ہے۔ انھوں نے بھی نوپور شرما کے بعد نبی پاک صلیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف توہین آمیز بیان جاری کیا تھا۔ لیکن مسلم ممالک پاکستان اور خلیجی عرب ممالک کے بعد شدید ردعمل آنے کے بعد بی جے پی نے نوین جندال کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ یہاں پر میں بتاتا چلوں کہ اگر کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر بھی مسلم اُمہ اکھٹا ہوجائے اور ایک متفقہ موقف اپنائے تو مسلمانوں کے یہ دو اہم ترین مسئلے بھی حل ہوسکتے ہیں۔
یہ بات نہایت ہی قابل فخر ہے کہ بھارت میں بھی نہایت ہی بہادر اور نڈر مسلمان صحافی موجود ہے جو وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے خلاف ہندووں کے ظالمانہ اقدامات کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک محمد زبیر ہےجو کہ الٹ نیوز کے شریک بانی بھی ہے۔ انھوں نے یہ نوپورشرما کی وہی ویڈیو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی جس میں انھوں نے حضرت محمد صلیٰ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا۔ اور سے کے بعد یہ معاملہ زور پکڑنے لگا اور مسلم ممالک خاص طور پر پاکستان اور خلیجی عرب ممالک کی طرف سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔ بھارت میں خود بھی اس معاملے کی شدید الفاظ میں مسلمانوں نے مذمت کی ہے۔
گزشتہ اتوار کے روز پہلی بار بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس بارے میں تبصرہ سامنے آیا ہے جس میں ان کے پارٹی کے جنرل سیکرٹری ارون سنگھ نے کہا ہے ان کی پارٹی کسی بھی ایسے نظریے کے بالکل خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرتا ہو۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بھارت میں ہر روز اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب نہایت ہی واضح ہے کہ اپنے مذموم پردے کے پیچھے بی جے پی مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ہندووں کو ہر طرح کی مدد فراہم کررہی ہے تاکہ وہاں پر مسلمانوں کا جینا حرام کردیا جائے۔
بھارتی حکمران جماعت کے ترجمان کی طرف سے اس طرح توہین آمیز بیان سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں ہزاروں لوگوں نےاس کو نبی پاک ؐ پر حملہ قرار دیا ہے۔ اور سوشل میڈیا پر اپنے شدید غم و غصے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔اس کے علاوہ وہاں پر کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بھی اپنے شدید غم وغصے کا اظہا ر کیا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر پاکستان اور سعودی عرب میں اسے حوالے سے یہ معاملہ ٹاپ ٹرینڈ پر رہا ہے اور سعودی عرب میں تو لوگ اس حد تک پہنچے کہ انھوں نے وہاں پر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلانی شروع کردی ہے۔ یہ بات نہایت ہی قابل فخر اور اطمینان بخش ہے۔ اسی طرح کے اقدامات سے بھارتی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائےگی۔ اور ان کو پتہ لگ جائے گا کہ مسلمان اپنے پیغبر کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتی۔ اور اپنے پیغبر پر جان نچاور کرنے کو بھی ہروقت تیار ہیں۔
صحافی محمد زبیر ایک بار پھر اتوار کے روز اپنے ٹویٹر پر اس حوالےسے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ جب پاکستان، اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک جس میں سعودی عرب، قطر، عمان اور مصر شامل ہیں کی طرف سے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا اور ان ممالک کے عوام نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کردیا تو اس کے بعد بھارتی میں بی جے پی حکومت کی عقل ٹھکانے آگئی اور انھوں نے اپنے ترجمان کو معطل جب کہ دوسرے کی پارٹی رکنیت ختم کردی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اس میں مسلمان ممالک کے لئے ایک کھل سبق موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مسلمان آپس میں متحد ہوجائے تو دُنیاکی کوئی طاقت انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی چاہیں وہ امریکہ ہو، روس ہو، بھارت ہو، اسرائیل ہو یا کوئی بھی دوسری قوت۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپس کی لسانی، مذہبی اور دیگر چپقلشوں کو ختم کردیا جائے اور آپس میں متحد ہوجائے۔ اگر مسلمان ممالک یہ ایک کردے تو فلسطین اور کشمیر اور بوسنیا وغیرہ جہاں بھی مسلمان غیرمسلموں کی وجہ سے پریشان ہیں یہ سب حل ہوجائیں گے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم طاقت جو کہ مسلمان ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک کے پاس ہے وہ تیل کی طاقت ہے۔ بھارت میں تقریباً 80 فیصد تیل ان عرب ممالک سے منگوایا جاتا ہے۔ اگر یہ عرب ممالک بھارت پر اپنا تیل بند کردے تو بھارت کی ساری مشینری بند ہوجائے گی۔ اور وہاں ایک قسم کی قیامت آجائی گی۔
دنیا کے دیگر مسلمان ملکوں کو چھوڑیں بھارت میں خود پاکستان کی مجموعی آبادی سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ اگر بھارتی حکومت کو پھر بھی سمجھ نہیں آتی تو وہاں کے مسلمان ہی بی جے پی کی دہشتگرد جماعت کے لئے کافی ہیں۔ وہ اپنے نبی کی شان میں گستاخی کبھی قبول نہیں کریں گے۔اگر بھارت حکومت چاہتا ہے کہ وہ آرام سے حکومت کریں تو انہیں نہ صرف ہندووں کی بلکہ مسلمانوں کا بھی اچھی طرح کا خیال رکھنا ہوگا۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا انشاء اللہ اور بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر کئی چھوٹے چھوٹے مسلمان اور سکھ آبادی والےملکوں میں تقسیم ہوجائےگا۔

Related Posts