پاکستانی ٹرک سے پرچم اُتارنے والوں کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں. افغان طالبان

Afghan taliban removing Pakistani flag from Pakistani truks

کابل: پاکستان پرچم اُتارنا ایک نہایت ہی بدترین واقعہ ہے اور ہم اس کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں.
مردان ٹائمز کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان میں پاکستانی ٹرک سے پرچم اُتارنے کے واقع پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے. یہ ٹرک پاک افغان طورخم سرحد پر پاکستان کی جانب سے افغانستان کو امدادی سامان لے جا رہی تھی.
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے کو بدترین واقع قرار دیا ہے. اور کہا ہے کہ اس واقع میں ملوث جار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے.
پاک افغان طورخم سرحد پر پاکستان سے افغانستان جانے والے امدادی سامان کے ٹرک سے پاکستان کا جھنڈا اتارے جانے کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’بدترین واقعہ‘ قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اُنھوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی واقع دوبارہ سرزد نہ ہو.
یہ خبر بھی پڑھیں: طالبان حکومت افغانستان کو امداد کی فراہمی پر پاکستان کے مشکور
واضح رہے کہ اتوار کے روز پاک افغان تعاون فورم کی جانب سے تقریباً 300 ٹن امدادی سامان ٹرکوں کے زریعے افغانستان بیجھا گیا تھا. جس پر پاکستانی پرچم لگا ہواتھا. جیسے ہی یہ ٹرک افغانستان کے حدود میں داخل ہوئےتو وہاں پر موجود افغان طالبان نے ٹرکوں کو روک کر پاکستان پرچم اُتار دیا.
یہ واقعہ سوشل میڈیا کے زریعے وائرل ہوا. جس کے بعد افغان ترجمان کا سخت ردعمل آیا ہے. اور اُنھوں نے ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کا کہا ہے. طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ "اس واقع پر طالبان کی پوری قیادت نہایت غصے میں ہے، اس لئے واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا اور اُن کو سخت سزا دی جائے گی”.

Related Posts