مینار پاکستان حراسگی کیس میں نیا موڑ، عائیشہ اکرام کے بھی گرفتار ہونے کا امکان

Ayesh-akram-tik-toker_640x480

لاہور: مینار پاکستان کیس میں نیا موڑ آگیا، ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کی بھی گرفتاری کا امکان بڑھنے لگا.
مردان ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق لاہور پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے قانونی ڈیپارٹمینٹ سے رائے مانگ لی ہے. دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں عائشہ اکرام اور ریمبو کو سات سات سال قید کی سزا ہوسکتی ہے.
ماہرین کے مطابق ان دونوں، عائشہ اور ریمبو، نے مرضی کے ساتھ قابل اعتراض ویڈییوز بنا کر سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر اپلوڈ کی تھی. اس کے ساتھ ساتھ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرضی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنانا اور اس کو کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک پر وائرل کرنا قانوناُ جرم ہے.
اُدھر لاھور کی مقامی عدالت نے جو کہ اس کیس کو سنتا ہے نے مینار پاکستان حراسگی کیس میں ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کے ساتھی ریمبو سمیت آٹھ ملزمان کی ریمانڈ میں دو دن کی توزیع کردی ہے. جبکہ ملزمان کے رشتہ داروں نے پولیس رویے کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے.
دوسری جانب ملزمان کے وکلاء نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے گرفتار افراد تو خاتون کو بچا رہے تھے. جبکہ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تفتیش جاری ہے اس لئے ریمانڈ کی مدت میں توسیع کی جائے.
اُدھر گرفتار ملزمان کے والدین نے عائشہ اکرام کی گرفتاری اور اُن سے بھی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے. والدین کا کہنا ہے کہ سچ اُس وقت سامنے آئے گا جب عائشہ اکرام سے بھی پوری اور صہیح طریقے سے بھی تفتیش کی جائے.

Related Posts