پاکستان اپنی فضائی حدود امریکہ کو استعمال کرنے کے لئے راضی ہورہاہے. امریکی انڈر سیکرٹری

Air Force Runway

واشنگٹن: امریکہ انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اپنے فضائی حدود امریکہ کو استعمال کے لئے راضی ہورہا ہے.
مردان ٹائمز کو واشنگٹن سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی کولن بل جو کہ امریکہ کے لئے انڈر سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئے ہیں، نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اس بات پر راضی ہورہا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنے فضائی حدود کو استعمال کی اجازت دے.
امریکہ انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی کولن بل نے یہ بات سینٹ کیمیٹی کو ایک بریفنگ میں بتائی. اُنھوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اپنے فضائی حدود تک رسائی دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے. اُنھوں نے سینٹ کمیٹی کے بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور امریکہ اس رسائی کو کھلا رکھنے کے لئے بات چیت پر بھی عمل پیرا ہے.
مردان ٹائمز کو جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق امریکہ انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی نے امریکہ کے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو جنوبی وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان سے متعلق بریفنگ بھی دی. تاہم اس بریفنگ کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان اور افغانستان کی حصوصی طور پر ذکر کیا گیا.
یہ خبر بھی پڑھیں: امریکہ نے بیس سال بعد کابل ایئرپورٹ حل کر دیا , امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل
اس موقع پر امریکی سینٹ کمیٹی کے چیئرمین جیک ریڈ نے بھی امریکہ انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی کولن بل سے سوالات کے دوران پوچھا کہ سینٹ کے پینل کو پاکستان کے طالبان کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کاروائیوں کے حوالے سے ہمیں آگاہ کریں. اس کے جواب میں کولن بل نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کا کردار نہایت ہی اہم ہے.
سینٹ کمیٹی کے سوالات اور جوابات کے دوران امریکہ انڈر سیکرٹری برائے دفاعی پالیسی نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کے لئے رسائی دیتا رہتا ہے. اُنھوں‌نے مزید بتایا کہ پاکستان اور امریکہ اس حوالے سے بات چیت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں.
یہ بات یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس قسم کا دعویٰ آیا ہو، بلکہ اس سے پہلے بھی امریکی حکام کی جانب سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان فضائی حدود تک رسائی کے حوالے سے دعوے سامنے آئے ہیں. تاہم دوسری جانب پاکستان نے اس قسم کی کسی بھی معاہدے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کیا ہے.

Related Posts