اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کا روپے کی قدر میں اُتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف

اسلام آباد: پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے روپے کی قدر میں اُتار چڑھاؤ میں‌مداخلت کا اعتراف کیا ہے.
مردان ٹائمز کی اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرطلحہ محمود کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کیمیٹی برائے خزانہ کا ایک اجلاس منعقد ہوا. اس اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر نے بھی شرکت کی اور اجلاس کے دوران شرکاء کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ایکسچینج ریٹس کی حرکات کا مہنگائی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں.
اُنھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایکسچینج ریٹس کا اثر مہنگائی پر آتا ہے. اجلاس سے تفصیلات بتاتے ہوئے اس نے مزید بتایا کہ اس وقت خوراک اور توانائی کی مہنگائی پوری دُنیا میں شروع ہے. اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان، جو کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتی ہے، نے کہا کہ ڈالر کی اُنچی اُڑان سے فائدہ ہونے کی باتیں بالکل بھی درست نہیں ہیں. اُنھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان حقائق کی برعکس اور گمراہ کُن ہے. اُنھوں نے مزید بتایا کہ آج پاکستانی روپے کی قدر ٹکے سے بھی آدھا رہ گیاہے. اُن کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارے ڈالر کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ یہ 200 تک جائے گا، اور دوسری طرف ڈالر کی ایک دم اُنچی اُڑان کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا اور ہمیں حکومت کی کوئی حکمت عملی اور منصوبہ بندی نظر نہیں آتی.
اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے روپے کی قدر کے اُتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ تمام ملکوں میں مرکزی بینک مداخلت کرتے ہیں. اس کے بعد سینیٹر کامل علی آغا نے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سے سوال پوچھا کہ اسٹیٹ بینک کیسے مداخلت کرتی ہے ہمیں بتایا جائے، اس وقت ڈالر 153 سے 175 پر پہنچ گیا تو اس پر اسٹیٹ بینک نے مداخلت کیوں نہیں کی؟ اسی طرح سینیٹر فیصل سبزواری، جو کہ ایم کیوں ایم سے تعلق رکھتے ہے، نے کہا کہ اگر اس حوالے سے میکنزم موجود ہے تو پھر یہ بتایا جائے کہ کس وقت مداخلت کی جاتی ہے؟ اجلاس میں شرکاء بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متعلق پھٹ پڑے اور کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جو بیان دیا تھا اس پر بھی وضاحت طلب کرلی.

Related Posts