یوکرین سے علحیدگی کا اعلان کرنے والے دو ریاستوں کوتسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، روس

Viladimir Putin 640x480

ماسکو: روس کے صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کے تنازع کے پُرامن حل کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، جبکہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے دو ریاستوں کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.
مردان ٹائمز کو ماسکو سے حاصل ہونے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ "وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان بیلاروس میں 2015 کو طے ہونے والے معاہدہ اب اس تنازع کے حل کے لئے قابل عمل رہا ہے”.
اس حوالے سے روسی صدر نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ جرمنی اور فرانس کی موجودگی میں یوکرین نے معاہدہ طے کیا تھا جو اب تک موثر ثابت نہیں ہوسکا ہے. روسی صدر نے مزید کہا کہ اب اس معاہدے کی کوئی حیثیت باقی نیں رہی ہے.
یہ خبر بھی پڑھیں: نیٹو میں شمولیت کے علاوہ یوکرین کے پاس اور کوئی راستہ نہیں، یوکرینی صدر
اس موقع پر روس کے صدر نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ یوکرین کے تنازع کو جواز بناکر روس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں، بصورت دیگر روس اپنا دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں.
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے دو ریاستوں ڈوناسٹک اور لوہانسک کو تسلیم کرنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں. انھوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اس معاملے پر صلاح مشورے بھی جاری ہیں.
یاد رہے کہ ان دو ریاستوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے انتہا کو پہنچ چکی ہے. ان ریاستوں میں روس نوازباغیوں نے یوکرین کے دو ریاستوں سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جنگ کے خطرے کے باعث ماسکو منتقل کررہے ہیں.

Related Posts