پاکستان کا نیا وزیراعظم کون ہوگا، شہباز شریف یا شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی میں فیصلہ آج ہوگا

Prime Minister Candidates 640x480

اسلام آباد: پاکستان کے قومی اسمبلی میں آج ہونے والے اہم اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔ اس جاری کردہ دونکاتی ایجنڈے میں قائد ایوان کا انتخاب بھی شامل ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق آج قومی اسمبلی کا ایک اہم اجلاس آج دوپہر2بجے ہوگا۔ اس حوالے سے پاکستان کے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس کا 2 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا. ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ اس آج ہونے والے اجلاس میں قائد ایوان کا انتخاب شامل ہے۔
آج قومی اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں جو بھی کاروائی ہوگی وہ آئین کے آرٹیکل 91 اور قاعدہ 32 کے تحت چلائی جائیگی۔ قومی اسمبلی میں آج نئے وزیراعظم کو منتحب کرنے کے لئے آج اسپیکر چیئر سے شیڈول پڑھ کر سنایا جائے گا. نئے قائد ایوان کو منتحب کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام ارکان کو ایوان میں کارروائی کا آغاز ہوتے ہی پہنچے ۔ اس مقصد کے لئے قومی اسمبلی کے ارکان کو ایوان میں اپنی حاضری کے لیے پانچ منٹس تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔
ؤاضح رہے کہ تمام ارکان قومی اسمبلی کے حاضر ہونے کے بعد جیسے ہی 5 منٹس تک گھنٹیاں بجے تو اس کے بعد ایوان کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے۔دروازے مقفل ہونے کے بعد کوئی رکن اندر سے باہر یا باہر سے اندر داخل نہیں ہوسکے گا۔
اس کے علاوہ لابیز کے دروازوں پر سارجنٹ ایٹ آرمز بھی متعین کردیئے جائیں گے. اس کے ساتھ ہی اسپیکر چیئر سے ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ چونکہ دو امیدوار اس وقت وزرات عظمیٰ کے امیدوار ہیں اس لئے دونوں امیدواران کے لئے الگ الگ لابیز مختص کی جائیں گی جہاں ان کے ووٹر اپنے ووٹ کاسٹ کے ساتھ داخل ہونگے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کے تمام ارکان کے ایوان سے رخصت ہونے کیساتھ ہی گھنٹیاں بجا کر حال کو بند کردیا جائیگا۔
اس عمل کے بعد ووٹنگ کی گنتی شروع ہوگی اور جیسے ہی ووٹنگ کی گنت مکمل ہوگی تو کے بعد لابیز کھول دی جائیں گی اور ارکان کے سامنے نتائج رکھے جائیں گے۔ لیکن ایک بات ذہن نشین ہونی چاہئیں کہ قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 172 ووٹ درکار ہیں۔
اس وقت پاکستان میں وزرات عظمیٰ کے عہدے کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے میاں شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف سے شاہ محمود قریشی امیدوار ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کو ہی سابقہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کے 174ووٹوں سے کامیاب ہوئی تھی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وزیراعظم نہیں رہے.

Related Posts