تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا قومی اسمبلی کی تحلیل، متعبر زرائع

National Assembly of Pakistan Photo Twitter
قومی اسمبلی کو تحلیل کیا جائے گا یا تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ فوٹو: ٹوتٹر

اسلام آباد: معتبر زرائع کے مطابق آئیندہ دو تین دنوں میں یا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا یا قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا جائے گا.
مردان ٹائمز کے مطابق ایسی خبریں زیرگردش ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں یا تو حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی یا موجودہ قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا جائے گا. زرائع کے مطابق اس حوالے سے آئیندہ آنے والے دو تین دن انتہائی اہم ہیں.
مزید خبروں کے مطابق متعتبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ان دو یا تین دنوں میں یا تو آپ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان سنیں گے اور یا پھر قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔ اس حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم شہاز شریف نے منگل کی رات اتحادیوں سے صلاح مشوروں کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں جاری معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لئے شرط یہ ہوگی کہ اس حوالے سے حکومت کو متعلقہ حلقوں کی جانب سے مطلوبہ تعاون کی یقین دہانی کرائی جائے۔
مزید اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو متعلقہ حلقوں کی جانب سے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے مطلوبہ تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ معتبر زرائع کے مطابق منگل کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران اتحادیوں نے اپنا موقف پیش کیا کہ مطلوبہ یقین دہانی کے بغیر موجودہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اپنے آخری دنوں میں دی گئی بھاری سبسڈی واپس لینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
منگل کو جب اتحادی جماعتوں کا اجلاس شروع ہوا تو حکمران جماعت سمیت تین اعلیٰ سیاسی رہنماوں آصف علی زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان موجودہ حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی حق میں نہیں تھے. انھوں نے کہا اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا تو اس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا.
اُدھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کو اس وقت درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور پاکستانی عوام پر ممکنہ طور پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کے لیے پراعتماد دکھائی دیتے ہیں۔ منگل کو ہونے والی اتحادی جماعتوں کے درمیان ملاقات اور ان میں ہونے والی بات چیت کے دوران وزیراعظم کو یہ کہا گیا کہ وہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو متعلقہ کمیٹی سے مطلوبہ یقین دہانی حاصل کرنے کے لئے بلائیں.
بات چیت کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں فوجی اداروں کے سربراہان، سیکورٹی کے اعلیٰ افسران، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھی بلایا جائے. منگل کو ہونے والی اجلاس میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ عمران خان حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی کو صرف اور صرف اسی صورت میں واپس لی جائےگی جب قومی سلامتی کمیٹی اس کی متفقہ طور پر موجودہ حکومت کی 2023 تک بقا کی ضمانت دیں.

Related Posts