پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ میں ملوث ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ

Imran Khan Speech Photo File 640x480
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان۔ فوٹو: فائل

لندن: برطانیہ کی ایک مشہور اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنے ایک تازہ بیان میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کوبرطانیہ سے ممنوعہ فارن فنڈنگ منتقل کی گئی ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق برطانیہ کی ایک معروف اخبار فنانشل ٹائمزکی ایک تازہ ترین رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے برطانیہ میں گثیر فنڈز اکھٹا کرنے اور اس کو منتقل کرنے کے لئے ٹی 20 میچ کروائے گئے۔ برطانوی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ برطانیہ میں دیگرذرائع سے بھی حاصل کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کی گئی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو یہ رقم ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی جانب سے منتقل کی گئی۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے کیمن آئی لینڈز میں شامل کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو پی ٹی آئی کے بینک رول کے لیے استعمال کیا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنے رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ فنڈز اکھٹا کرنے کے لئے عارف نقوی نے برطانیہ میں کرکٹ میچز منعقد کرائے جن میں سب سے اہم میچ آکسفورڈ شائر میں عارف نقوی کی رہائش گاہ پرکھیلاگیا۔ اخبار کے مطابق اسی ویک اینڈ پر عارف نقوی کی طرف سے عمران خان سمیت دیگر سیکڑوں سرمایہ داروں، بینکرز اور وکلا نےشرکت کی۔
برطانیہ کی مشہور اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ابراج گروپ کے بانیی عارف نقوی 2012 سے2014 تک ووٹن ٹی ٹوئنٹی کے صدر رہے۔ اس دوران ووٹن پیلس پرکھیلے جانے والے ٹی 20 میچ کے لئے آنے والے مہمانوں کو فلاحی مقاصد کے لئے 2 سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ کے درمیان ادائیگی کا کہا گیا۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں موسم گرما کے دوران ہرسال حیراتی اداروں کے لئے فنڈز اکھٹے کئے جاتے ہیں لیکن اخبار کے مطابق یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ ان میچز کے دوران تمام کے تمام فنڈز کو پاکستان کی ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو منتقل کی گئی اور اس کا سارا فائدہ بھی اسی سیاسی جماعت کو ہوا۔
اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ رقم ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کوفیس ادا کی گئی جواصل میں کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈکمپنی تھی اور اس کمپنی کے مالک عارف نقوی تھے۔ اخبار کے مطابق عارف نقوی کی اس ووٹن کمپنی کو دیگر کئی کمپنیوں اور افراد نےلاکھوں ڈالرکےفنڈز دیے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر نے جوکہ ابوظبی کےشاہی خاندان کے فرد بھی ہیں نے بھی 20 لاکھ پاونڈز دیے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہوا ہے کہ ابراج کی ای میلز کے علاوہ اندرونی دستاویزات کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ ووٹن کرکٹ کمپنی کو 14مارچ 2013 کو ابراج انویسٹمنٹ سے 13 لاکھ ڈالرموصول ہوئے۔ اخبار نے عویٰ کیا ہے کہ عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ کے بینک اکاؤنٹ سے 13 لاکھ ڈالربراہ راست پی ٹی آئی کےاکاؤنٹ میں متقل کئے گئے۔ لیکن دوسری طرف یہ بات نہایت ہی قابل ذکر ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لئے بیرون ممالک سے فنڈز کو اکھٹا کرنے پر پاکستان کی حکومت کی جانب سے پر پابندی عائد ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں مزید تہلکہ خیز انکشافات کے مطابق شیخ نہیان مبارک نے اپریل 2013 میں عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ کے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ ڈالرمنتقل کیے۔اخبار نے اس حوالے سے مزید لکھا ہے کہ 20 لاکھ ڈالرز کے آنےکے چھ دن بعد12 لاکھ ڈالر 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کردیے گئے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاہور میں انصاف ٹرسٹ کے بینک اکاؤنت یا کراچی میں طارق شفیع کے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویزدی گئی۔ اخبار کے مطابق عارف نقوی نے متعلقہ فرد کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو 12 لاکھ ڈالر بھیجیں لیکن اس بارے میں کسی کونہ بتائیں کہ فنڈزکہاں سے آرہے ہیں اور اس میں کون حصہ ڈال رہا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ شیخ نہیان نے اس حوالے سے تبصرہ دینے سے انکار کرکے کوئی جواب نہیں دیا تاہم عمران خان نےتصدیق کی کہ طارق شفیع نے پی ٹی آئی کوچندہ دیا۔

Related Posts