پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس ثآبت ہوگئی، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آگیا

Election commission of Pakistan 640x480
الیکشن کمیشن آف پاکستان۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان کے الیکشن کمیشن کے 3 رکنی بینچ پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف بیرون ممالک سے ممنوعہ فنڈنگ لینا ثابت ہوگیا ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان کے الیکشن کمیشن کے تین ارکان پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 3 جون 2022 کو محفوظ کیا تھا جس کو آج منگل کے دن چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ سنا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ موصول ہوئی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کوبرطانیہ کے ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے 16 بینک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن آف پاکستان سے چھپائے۔ اس کے علاوہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں مس ڈیکلیریشن جمع کرایا۔ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا سرٹیفکیٹ غلط اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے بیان حلفی میں جھوٹ بولا گیا ہے اور غلط بیانی کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے متفقہ فیصلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی گئی ہے۔ فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے خلاف آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ثابت ہوگئی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوری طرح چھان بین اور دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد کمیشن مطمئن ہو گیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے صرف 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے 34 غیرملکی کمنیوں سے فنڈنگ لی۔
بیرون ممالک سے فنڈز ثابت ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کے بیرون فنڈزکو بحق سرکار ضبط کرلیے جائیں۔ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ 70 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے دئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے صرف 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے تھے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی گئی تھی، وہ پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت ہی چلا رہی تھی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مجموعی طور پر 16 اکاونٹس چھپائے کو کہ پی ٹی آئی کی اپنی ہی قیادت کے زیرانتظام چل رہے تھے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان 16 اکاونٹس کو ظاہر نہ کرنا پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آرٹیکل 17(3) کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تین ارکان پر مشتمل بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں مزید کہا ہے کہ سال 2008ء سے 2013ء تک عمران خان کے جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹ صریحاً غلط اور گمراہ کن ہیں۔ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹ اسٹیٹ بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق فارن فنڈنگ کیس کا معاملہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کی شق چھ (3) کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے فیصلے کے بعد پولیٹیکل پارٹیز رولز کی شق 6 کے تحت پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں فارن فنڈز ضبط کرنے کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نہ تمام ممنوعہ فنڈز ضبط کر دیے جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے دو دن پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق کہا تھا کہ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ ایک ہی چیز ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق فارن فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرپی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ خلاف آیا تو اس صورت میں پاکستان تحریک انصاف کو بیرون ممالک سے کی جانے والی ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سیکشن 215 کے تحت پارٹی کا نشان بھی واپس لیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ پر کسی بھی پارٹی کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔

Related Posts