اے آر وائی نیوز نے شہباز گل کی بیان کی مذمت کردی

ARY News Photo By BBC Urdu 640x480
اے آر وائی نیوز نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی گفتگو کی مذمت کردی۔ فوٹو: بی بی سی اردو

اسلام آباد: پیمرا کی جانب سے اے آر وائے نیوزکو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ نے اپنے چینل پر پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کے بیان کی مذمت کردی ہے اور اس حوالے سے کہا ہے کہ ان کا ادارہ ‘فوج کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں۔’
مردان ٹائمز کے مطابق اے آر وائی نیوز پرگذشتہ روز چینل کی نشریات کے دوران پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی طرف سے متنازع گفتگو پر ان کو آج اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے موقف اپنایا گیا ہے کہ شہباز گل پر فوج کے ادارے میں دانستہ اور سوچی سمجھی سازش کے تحت تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پیمرا جو کہ پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، نے اے آر وائی چینل پر شہباز گل کی اس متنازعہ گفتگو کے بعد متعلقہ میڈیا کے چینل اے آر وائے کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چینل کی نشریات بند کر دی تھی۔
پیمرا کی جانب سے نوٹس کے بعد اے آر وائی نیوز اپنا مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "’شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتے ہیں، یہ ہمارے لیے سرپرائز تھا”.
اس سلسلے میں اے آر وائے کے اینکر کاشف عباسی نے اپنے چینل سمیت سی ای او سلمان اقبال کا موقف شو کے آغاز میں ہی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘اے آر وائے شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتا ہے۔ اے آر وائے ادارے کے طور پر کبھی بھی عدلیہ یا فوج کسی ادارے کے خلاف مہم کا حصہ نہ بنا ہے اور نہ آئندہ بنے گا۔’
شو کے میزبان اور اینکر کاشف عباسی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ‘اے آر وائی چینل پر ماضی میں بھی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ کوئی گھٹ جوڑ کا الزام لگتا رہا ہے۔ انھوں نے شو میں مزید بتایا کہ ‘اے آر وائی ہمیشہ سے فوج کی عزت کرتا ہے، پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج کا حامی ہے۔’
شو کے اینکر کاشف عباسی نے مزید کہا کہ ‘ہم ایک پلیٹ فارم ہیں۔ ہم جب کسی کو لائن پر لیتے ہیں تو ہم کسی کا دماغ نہیں پڑھ سکتے کہ وہ ٹی وی پروگرام پر آ کر کیا کہے گا؟ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے بھی لائیو ٹرانسمیشن میں آ کر اپنی رائے دی۔ کاشف عباسی نے اس واقعے کی بارے میں بات کرتے ہوئےکہا کہ ‘ادارے کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی گفتگو کریں گے کہ لوگ حکم نہ مانیں۔ یہ ہمارے لیے بھی سرپرائز تھا۔’
اس کے ساتھ ساتھ اے آر وائے کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وفاقی حکومت انھیں انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ اے آر وائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ‘پلیٹ فارم کے طور پر ہمارا اس سازش سے کوئی تعلق نہیں۔’

Related Posts