حملہ آور کی ویڈیو بیان سامنے آنے کے بعد فوج کے ادارے پر الزامات جھوٹ اور بلاجواز ہیں: رانا ثنا اللہ

Rana Sanuallah and Maryam Aourangzeb Press conference Photo File 640x480
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کے دوران۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ جب حملہ آور ملزم کی ویڈیو بیان سامنے آگئی ہے تو ایسی صورت میں عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے فوج کے ادارے پر الزامات جھوٹ، مضحکہ ٰخیز اور بلاجواز ہیں۔
مردان ٹائمز کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کی لانگ مارچ پر فائرنگ کےواقعے کے بعد پاک فوج کے ادارے پر اس واقعے کا الزام لگایا گیا ہے جس کی وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے سختی سے تردید کی ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے تحریک انصاف کی جانب سے عائد کردہ بلاجواز الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری، اور اس کا اعترافی بیان سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم، مجھ پر اور ادارے پر الزامات بلاجواز ہیں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے اس اندوہناک واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے فوج آفیسر میجر جنرل فیصل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’میجر جنرل فیصل اپنی ذمہ داریاں نہایت ہی احسن اور بھرپور طریقے سے ادا کررہے ہیں، ان (پاکستان تحریک انصاف) کی اپنی مرضی ہے جس کو نشانہ بنا لیں اور بغیر کسی شواہد کے پراپیگنڈا شروع ہوجاتا ہے۔‘
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ’ایک ادارہ جو سیاسی طور پر آپ کے کام نہیں آرہا، دوبارہ برسراقتدار لانے سے انکار کیا اور آپ کی سیاسی خواہشات کو پورا کرنے سے معذرت کر دی ہے تو ہر معاملے میں اسے کیوں گھسیٹ رہے ہیں، وہ ادارہ اس ملک کی بقا، دفاع ، سرحدوں کا محافظ ہے ، اس ادارے کے خلاف ایسی مہم جوئی کر رہے ہیں جو دشمن ملک کو پسند آرہی ہیں۔‘
پریس کانفرنس سے گفتگو کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ ’کسی بھی واقعے پر پہلے اطلاع اہم ہوتی ہے۔ پولیس نے (حملہ آور کی) ویڈیو ریکارڈ کر کے نہایت ہی درست اور احسن اقدام کیا مگر یہ میڈیا تک نہیں جانی چاہیے تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کو سیکورٹی دینا پنجاب پولیس کی زمہ داری تھی، اس لئے حملہ آور کی ’ویڈیو لیک ہونے اور سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہ ہونے پر وزیر اعظم کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کا استعفی مانگیں۔‘

Related Posts