پی ٹی آئی چئیرمین توشہ خانہ کیس میں گرفتار، تین سال قید کی سزا کا بھی حکم

Imran Khan PTI Chairman Photo File 640x480
پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان سوشل میڈیا پر کارکنوں سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کو توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔

مردان ٹائمز کو موصول ہونے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چئیرمین کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور گرفتاری کا حکم دیا گیا جس کے بعد فیملی ذرائع کے مطابق پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کیا ہے۔



زرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس ملزم کو لے کر زمان پارک سے روانہ ہو گئی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد لے جانے سے پہلے کوٹ لکھپت منتقل کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

پی ٹی آئی کارکنان کی احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے مختلف ناکوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

باوثوق ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ پولیس کی جانب سے شہر میں سرگرم پی ٹی آئی کارکنان کی فہرستیں تیار کر لی ہیں، اور کسی بھی ممکنہ احتجاج کی صورت میں کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کا قوی امکان ہے۔



چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان
اُدھر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل کی پیشانی پر ایک اور سیاہ دھبّہ لگایا گیا اور تاریخ کے بدترین ٹرائل میں انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ سیشن عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام اور سیاسی انجینئرنگ کی بدترین مثال ہے۔

دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی

اس حوالے سے آج سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم کو تین سال قید کی سزا سنا دی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا فیصلہ متعصبانہ ہے: ترجمان پی ٹی آئی

سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین پر تمام الزامات ثابت ہوتے ہیں، اور ان پر جھوٹے اثاثے ظاہر کرنے کا الزام ثابت ہوا۔

فیصلے میں ان کا مزید کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال کی سزا سنائی جاتی ہے، اور ساتھ ہی ان کے گرفتاری کے وارنٹ نکالے جاتے ہیں۔ جج ہمایون دلاور نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی قابلِ سماعت ہونے کی درخواست بھی مسترد کی جاتی ہے۔



توشہ خانہ کیس کا تحریری حکمنامہ میں کیا لکھا ہے؟

آج سیشن کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کے خلاف توشہ خانہ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے 4 صفات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

پی ٹی آئی چیرمین کے خلاف تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم کی جانب سے کیس قابل سماعت ہونے کی درخواست پر کسی نے بحث نہیں کی۔ حکمنامے کے مطابق 5 مئی اور 8 جولائی کو قابلِ سماعت ہونے کے دلائل پر درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی چئیرمین کے خلاف حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ نے تسلی بخش شواہد پیش کیے، شکایت کنندہ کے دیے شواہد سے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں۔

تحریری حکمنامے کے مطابق جج ہمایوں دلاور نے لکھا کہ ثابت ہوتا ہے پی ٹی آئی چیئرمین نے جھوٹا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا، 19-2018، 20-2019 میں توشہ خانہ سے لیے تحائف کا جھوٹا ریکارڈ جمع کرایا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسی طرح مزید خبریں