ایران کا امریکہ سے مزاکرات سے پہلے 10 ارب ڈالر کی فنڈ بحالی کا مطالبہ

Iran_Suprem_Leader

تہران: امریکہ سے جوہری معاہدے پر مزاکرات سے پہلے ایران چاہتا ہے کہ اُس کا کا اربوں ڈالر کا منجمد شدہ فنڈزبحال ہوجائے.
مردان ٹائمز کو تہران سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مزاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُس کے اربوں ڈالر کے منجمد شدہ اثاثے بحال ہوجائے. یہ بات ایران کے وزیرحارجہ امیر عبداللہیان نے ایران کےسرکاری ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہی ہے.
ایران کے وزیرحارجہ امیر عبداللہیان نے ایران کےسرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ امریکہ گزشتہ ماہ سے جوہری مذاکرات کی بحالی کے لئے مسلسل رابطہ کر رہا ہے.
اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ چند دن پہلے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں بھی امریکہ نے کئی بار مختلف ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہم نے یہ بات بالکل واضح طور پر کہی ہے کہ جوہری مذاکرات سے پہلے امریکہ کو ایران کے 10 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے ہونگے.
یہ خبر بھی پڑھیں: ایران سے متصل ایک اور سرحد طالبان کے قبضے میں چلا گیا.
ایران کے وزیرحارجہ امیر عبداللہیان نے انٹرویو میں مزید بتایا کہ فنڈز سے متعلق ہمارا مطالبہ سامنے آنے کے بعد امریکہ نے جواب میں اپنے ثالثوں کو فوری طور پر اثاثے بحال کرنے سے معذرت کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ پہلی بار منجمد شدہ اثاثے بحال کرنے پر غور کرے گا.
دوسرے طرف ایران نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر عالمی قوتیں امریکہ کو جوہری معاہدے میں لانے کے لئے ناکام ہوجاتی ہے تو ایران اپنے حق کے لئے ویانا بھی جائیں گے.
یاد رہے کہ ایران امریکہ کی جانب سے توانائی اور دیگر شعوبوں پرعائد پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی بینکوں میں تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل ہونے والی تقریباً دس ارب ڈالر کی اپنی اثاثے نہیں نکلوا سکتا.
دوسری جانب دیگر فریقوں کی جانب سے جو کہ اس جوہری معاہدے میں شریک تھے خاص طور پر مغربی ممالک نے ایران سے اپیل کے ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے. اُدھر امریکہ اور ایران کے درمیان اسی معاہدے کی معیاد بھی ختم ہونے والی ہے.

Related Posts