مودی حکومت کا زرعی قوانین واپس لینے کااعلان، کسانوں کا عملدرآمد تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

بھارتی کسانوں کا زرعی قوانین کے خلاف احتجاج

نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کسانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور اُنھوں نے کسانوں کے خلاف تین متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کافیصلہ کردیا ہے.
مردان ٹائمز کو نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی کسانوں کے خلاف منظور کئے گئے تین متنازع قوانین کو واپس لینے کا اعلان کردیا ہے. بھارت میں کسان گزشتہ ایک سال سے ان متنازع قوانین کے خلاف احتجاج کررہےتھے.
مزید تفصیلات کے مطابق بھارت میں یونائیٹڈ کسان مورچہ نے بھارتی وزیراعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا پُرامن احتجاج اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک وزیراعظم کے اعلان پر عملدرآمد نہیں ہوتا. اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہم اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ کب تک وزیراعظم کے اس تازہ ترین اعلان پر پارلیمانی طریقہ کار کے زریعے عمل درآمد کیا جائے گا.
اُدھر کسانوں کی تحریک کی طرف سے بھی اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تہ یہ بھارت میں گزشتہ ایک سال سے جاری کسانوں کی مسلسل جدوجہد کی ایک تاریخی فتح ہوگی.
واضح رہے کہ کسانوں کے خلاف متنازع قوانین واپس لینے کا اعلان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ جمعے کو قوم سے خطاب میں کیا تھا. قوم سے خطاب میں نریندر مودی نےکہا کہ ‘آج میں پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے. اس مہینے کے اواخر میں شروع ہونے ولاے پارلیمانی اجلاس میں ہم ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا آئینی عمل مکمل کریں گے’.
یاد رہے کہ بھارت کے مختلف ریاستوں پنجاب، اُترپردیش، ہریانہ، راجستھان اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسانوں ان متنازع قوانین کے خلاف گذشتہ ایک سال سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج پر ہیں.

Related Posts