یورپ ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کا مرکز بنے جارہا ہے

کرونا وائرس ٹیسٹ

عالمی ادارہ صحت نے اگلے سال کے فروری کے مہینے تک پانچ لاکھ افراد کی ہلاکت کا حدشہ ظاہر کیاہے.
مردان ٹائمز کو یورپ سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہاں کرونا وائرس پھر سے زور پکڑ رہاہے اور اسی سلسلے میں عالمی ادارہ صحت نے ایک مرتبہ پھر حدشہ ظاہر کیا ہے کہ یورپ ایک بار پھر کوڈ-19 کی وبا کی مرکز بن رہا ہے.
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے یہ حدشہ اس لئے ظاہر کیا ہے کہ وہاں پر کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ایک بار پھر بڑھتی جارہی ہے. اس حوالے سے ہانس کلوگ جو کہ عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے سربراہ ہے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ براعظم یورپ میں اگلے سال فروری کے مہینے تک کم سے کم پانچ لاکھ افراد کی موت ہوسکتی ہیں.
یہ خبر بھی پڑھیں: چین میں کرونا وائرس نے پھر سے سر اُٹھا دیا، ائیر پورٹ بند جبکہ شادی ہالزسمیت تمام اجتماعات پر پابندی
عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے سربراہ نے اس کی ذمہ داری لوگوں کی جانب سے کم تعداد میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے پر عائد کی ہے. اس پریس کانفرنس کے دوران اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا. اُنھوں نے مزید کہا کہ ہمیں کرونا وائرس کے بڑھنے پر اقدامات کرنے کی بجائے پہلے سے ہمیں ایسی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا ہوگا.
واضح رہے کہ حالیہ چند مہینوں میں یورپ کے کئی ملکوں میں ویکسین لگانے کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے. عالمی ادارہ صحت کی اعداد و شمار کی مطابق سپین میں مکمل طور پر ویکسین لگوانے والوں کی تعدا 80 فیصد، فرانس اور جرمنی میں بالترتیب 68 اور 66 فیصد رہی ہے. تاہم وسطی اور مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں یہ تعداد اور بھی کم رہی ہے.
اسی طرح عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق روس میں ویکسین لگوانے والوں کی یہ تعداد صرف 32 فیصد رہی ہے. یورپ کی عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ہانس کلوگ نے اس صورتحال کی ذمہ داری عوامی صحت کے اقدامات اور اس میں حکومتوں کی جانب سے نرمی برتنے پر عائد کی ہیں.

Related Posts