کابل میں امن و امان کی صورتحال سنبھالنے لے لئے دعوت ہم نے دی، حامد کرزئی

Hamid Karzai Former Afghan President 640x480

کابل: جب اشرف غنی اور ان کے ساتھ اعلی حکام بھی افغانستان سے فرار ہوگئے تو ہم نے طالباب کو کابل میں امن وامان کی صورتحال سنبھالنے کے لئے دعوت دی.
مردان ٹائمز کو کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابقہ افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے طالبان کو کابل میں امن و امان کی صورتحال سنبھالنے کے لئے دعوت دی.
سابقہ افغان صدر کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی نہیں تھا کہ امن و امان کی دگرگوں صورتحال کو سنبھالتے. اس وقت افغانستان کے اس وقت کے صدر اشرف غنی اور ان کے تمام اعلیٰ حکام ملک سے فرار ہوچکے تھے.
یہ خبر بھی پڑھیں: ترک صد طیب ادگان قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے
انھوں نے ایک تازہ انٹرویوں میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کو کابل بلانے کا واحد مقصد کابل شہر میں لوٹ مار اور افراتفری کو روکناتھا. اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ہم نے جب اشرف غنی نے فرار ہوکر ملک کو چھوڑا تو ہم نے سابقہ افغان وزیر دفاع بسم اللہ خان سے رابطہ کیا اور اس نے کہا کہ افغان صدر اپنے اعلیٰ حکام سمیت ملک سے چلے گئے ہیں.
انھوں نے کہا کہ سابقہ افغان وزیردفاع بسم اللہ خان نے انھیں بھی ملک چھوڑنے کو کہا. اس دوران جب معلوم ہوا تو کابل شہر کے پولیس چیف بھی ملک چھوڑ کر فرار ہوچکے تھے.
انھوں نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ اس وقت اشرف غنی کو چاہئیے تھا کہ ملک میں موجود رہتے تو طالبان کے ساتھ پر امن اقتدار کی منتقلی کا معاہدہ بھی ہوجاتا. لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا. انھوں نے کہا کہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ عالمی برادری افغانستان سے روابط قائم کرے.

Related Posts