وکلا برادری کا جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ تقرری پر ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

Justic Ayesh Malik 640x480

اسلام آباد: جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کی مسئلہ شدت اخیار کرگیا، وکلا برادری کا 6 جنوری کو ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا اعلان.
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان بار کونسل نے 3 جنوری کو منعقد ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ بار، ہائیکورٹ بارز اور اس کے علاوہ دیگر صوبائی بار کونسلز کے نمائیندوں نے شرکت کی. اس اجلاس میں پاکستان کے تمام بارز کے نمائیندوں نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے لئے کام کرتے رہیں گے.
پاکستان بار کونسل کی صدارت میں مععقد ہونے والے اس اجلاس میں وکلا نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہم جوڈیشل کمیشن اور عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں لیکن بارز سنیارٹی کے اصول کے بھی ساتھ کھڑے ہیں. اس موقع پر انھوں نے کہا کہ عدلیہ کی طرف سے سنیارٹی اُصول سے انحراف کی صورت میں بار اور بینچ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے. انھوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ میں بھی بے چینی بڑھے گی.
یہ خبر بھی پڑھیں: دارالخلافہ اسلام آباد میں ایک ہی خاندان کے 15 افراد میں اومیکرون کی تصدیق
اجلاس کے آخری اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ تقرری کے عمل میں لاہور ہائی کورٹ اور چیف جسٹس کو نظر انداز کرنے کی عمل کو نہایت سنجیدگی سے سے لیتی ہے. اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذکورہ ججز صاحبان کی قابلیت اور اہلیت پر کوئی سوال بھی نہیں ہے.
سپریم کورٹ بار کے اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کے اپنا طے کردہ اصول ہے اور اسی اصول کے مطابق ریٹائیرمنٹ کے قریب کسی چیف جسٹس کو ججز تقرری کے عمل میں نہیں آنا چاہیے. اس لئے جسٹس عائشہ اے ملک کی تقرری کے لئے بلائے گئے اجلاس کو فوری طور پر واپس لیاجائے.
اس موقع پر یہ فیصلہ بھی ہوا کہ 6 جنوری کو سپریم کورٹ اور دیگر تمام عدالتوں کا بائیکات کیا جائے گا.

Related Posts