اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے خط کا سخت جواب دیا گیا ہے جس میں صدر مملکت کو کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اختیار صرف کمیشن کے پاس ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں کمیشن نے کہا ہے کہ اس نے نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے تاکہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہوسکے۔
’الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور اسی ضمن میں الیکٹروول روڈ میپ کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی ہے۔‘
صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘الیکشن کی رائے ہے کہ (صدر سے) ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔‘
واضح رہے کہ اس سے پہلے صدر مملکت عارف علوی نے الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا۔ اس خٰط میں صدر مملکت نے جنرل الیکشن کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو مُلاقات کی دعوت دی تھی۔