اسلام آباد: این سی او سی کے اجلاس میں دس فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں ایک مرتبہ پھر تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے.
مردان ٹائمز کے مطابق کل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں این سی او سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پورے ملک میں کرونا کی تازہ ترین صورتحال سمیت احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا.
اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 31 جنوری تک احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھا جائے جبکہ شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فروری تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا.
این سی او سی کی طرف سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ این سی او سی کی طرف سے 10 فیصد سے زیادہ شرح والے شہروں میں پابندیاں عائد کی جائے گی. اس کے علاوہ وہ شہریں جن میں کرونا وبا کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے وہاں پر ہر قسم کی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے.
یہ خبر بھی پڑھیں: کراچی ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کی لپیٹ میں، مثبت کیسس کی شرح 38.79 فیصد ریکارڈ
این سی اس سی کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کی گنجائش کی اجازت ہوگی. اس کے علاوہ 300 افراد آؤٹ ڈور اجتماعات کرسکیں گے.
اس کے علاوہ این سی او سی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ کرونا کی دس فیصد سے زائد شرح والے شہروں میںتعلیمی سرگرمیاں بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
این سی او سی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی طلبا 3 دن 50 فیصد سکولوں کو آئیں گے، جبکہ وہ طلباء جن کی عمریں 12 سال سے زائد ہیں وہ مکمل طور پر حاضری دیں گے. اس کے علاوہ 12 سال سے زائد عمر والے طلباء کے لئے ویکسین کو لازمی قرار دی گئی ہے.