چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی ایسی کسی بھی آرڈیننس کو نہیں مانتی جس کی وجہ سے صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم پر آنچ آئیگی۔
مردان ٹائمز کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اے این پی ایسی کسی بھی آرڈیننس کو نہیں مانتی جس سے صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم پر آنچ آئیگی۔
اے این پی ایسی کسی بھی آرڈیننس کو نہیں مانتی جس سے صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم پر آنچ آئیگی۔ پارلیمنٹ کی بے توقیری پچھلی حکومت نے کی یا آج کی حکومت کررہی ہے، ہم کسی بھی صورت جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ گذشتہ حکومت نے آرڈیننس کی فیکٹری کھولی تھی… pic.twitter.com/v2bTL2D0MV
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) July 6, 2023
انھوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں مزید لکھا کہ پارلیمنٹ کی بے توقیری پچھلی حکومت نے کی یا آج کی حکومت کررہی ہے، ہم کسی بھی صورت جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ایلیکشن تک ہم آئی ایم ایف معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں، عمران خان
اے این پی کی صوبائی صدر ایمل ولی نے مزید کہا کہ گذشتہ حکومت نے آرڈیننس کی فیکٹری کھولی تھی تو آج بھی وہی کچھ دیکھ رہے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے خلاف سازش کے تحت ہی پی ٹی آئی کو اقتدار دلوایا گیا تھا لیکن آج کی اتحادی حکومت بھی شاید صوبائی خودمختاری ختم کرنا چاہتی ہے جس کیلئے پہلا اقدام صوبائی ہائیرایجوکیشن کمیشن کے اختیارات ختم کرنے کی شکل میں اٹھایا گیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ہم وزیراعظم شہباز شریف صاحب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے احکامات سے سیاسی اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے اتحادی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے اختیارات کم کرنے کے آڑ میں صوبوں کے حقوق پر حملہ برداشت نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کام جس کسی کے ایما پر بھی یہ ہورہا ہے، ہم چپ نہیں رہیں گے۔ اس قسم کے احکامات واپس نہیں لئے گئے تو ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے۔