صحافیوں کا وفد پاکستان سے نہیں بلکہ امریکہ سے اسرائیل گیا ہے اور اس کی اجازت عمران خان کی حکومت نے دی تھی، صحافی احمد قریشی

Journalist Ahmad Qureshi in Israel Photo Twitter
صحافی احمد قریشی عمران خان حکومت کی اجازت کے بعد اسرائیل کے دورے پر اسرائیل میں موجود ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

یروشلم: اسرائیل کا دورہ کرنے والے صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان سے نہیں بلکہ امریکہ سے اسرائیل گئے ہیں اور اس دورے کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم یہودی افہام و تفہیم ہے.
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد نے حال ہی اسرائیل کا دورہ کیا ہے جس پر پاکستان میں کافی تنقید کی جارہی ہے. اور متعلقہ صحافیوں کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.
صحافیوں کے وفد میں پاکستان سے احمد قریشی بھی شامل ہیں اور جب ان سے اس دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم یہودی افہام و تفہیم ہے. انھوں نے یہ بات بھی کی وہ انھوں نے یہ دورہ پاکستان سے براہ راست نہیں کیا بلکہ وہ امریکہ سے اسرائیل گئے ہیں.
انھوں نے مزید کہا کہ اس دورے کی اجازت عمران خان حکومت نے خود دی تھی. خیال رہے کہ یہ صحافی ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے دورے پر ہیں جب وہاں پر اسرائیل نے فلسطینی عوام کا جینا حرام کردیا ہے. اسرائیل کی فلسطینوں کے خلاف مظالم کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صحافیوں میں موجود ایک اور صحافی رکن انیلہ علی نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین مسئلہ حل کرسکتے ہیں.
پاکستان اور اسرائیل سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں صحافی احمد قریشی نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے. اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب تک وہاں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست نہ بنائی جائے. اس حوالے سے صحافی احمد قریشی نے مزید کہا کہ نہ ہی کوئی این جی او اور نہ ہی میں اس موقف کو تبدیل کرسکتے ہیں. انھوں نے مزید کہا ہے میرا کام صحافت ہے اوہ میں زیادہ تر مشرق وسطیٰ کو کور کرتا ہوں اور میں ایسا کرتا رہوں گا.
صحافی احمد قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کی پھچلی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے ایک پاکستانی نژاد یہودی کو مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پاسپورٹ جاری کیا۔ صحافی احمد قریشی نے مزید کہا کہ اس پورے کام کا کریڈت عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کو جاتا ہے اور انھوں نے پچھلی حکومت کی تعریف بھی کی. انھوں نے کہا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کافی کام کیا ہے. انھوں نے کہا کہ پاکستانی صحافیوں کا حالیہ دورہ اسرائیل بھی بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب ایک قدم ہے۔
صحافی احمد قریشی نے کہا کہ صحافیوں کے اسے دورے کا ذیادہ تر کریڈت اس این جی او کو جاتا ہے جس نے اس سارے دورے کو عملی جامہ پہنانے میں بھرپور سہولت فراہم کی. ڈاکٹر شیرین مزاری کے ٹویٹس سے متعلق سوال کے جواب میں صحافی احمد قریشی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کو اس بات سے انکار کرنا چاہیے تھا کہ اس دورے کی اجازت عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے دی تھی. انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شیرین مزاری نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں پاکستان فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی ٹیگ کیا. احمد قریشی نے کہا کہ گویا وہ ریاستی ادارے کو دھمکی دے رہی ہیں کہ وہ ریاستی راز سے پردہ اٹھائیں گی۔
واضح رہے کہ عمران خان کی حکومت میں آنے کے بعد بھی اسی طرح کی چی میگوئیاں ہورہی تھی کہ اسرائیل کا ایک جہاز پاکستان کے ایک ہوائی اڈے پر اُترا ہے اور اس نے تقریبآ 5 سے 6 گھنٹے قیام بھی کیا تھا. اس کے علاوہ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ بھی اپنے جلسوں میں کئی بار عمران خان پر یہودیوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتا رہا ہے.

Related Posts