پاکستان میں بکرے کے بچے کے حیرت انگیز طور پر 48 سینٹی میٹر لمبے کان

Longest ear goat in Pakistan Photo File 640x480
صوبہ سندھ میں پیدا ہونے والا بکری کے اس بچے کے کان اب تک دنیا کے طویل ترین 48 سینٹی میٹر کان ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان میں صوبہ سندھ میں ایک بکرے نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا ہے جس کے اب تک دینا کے طویل ترین کان ہیں، اور اس کی نسل سندھ سے تعلق رکھتی ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک بکرے نے ایک ایسے بچے کو جم دیا ہے جس کی اب تک دنیا کے طویل ترین کان ہیں۔ بکرے کا یہ بچہ صوبہ سندھ کے محمد حسن ناریجع کے فارم میں پیدا ہوا ہے اور انھوں نے اس حیرت انگیز بچے کا نام ’سمبا‘ رکھا ہے۔
اس حوالے سے مزید خبروں کے مطابق بکرے کے اس بچے کی عمر ابھی ایک ماہ ہے، کیونکہ اس کی پیدائش اس ماہ کے پانچ تاریخ کو ہوئی تھی۔ پانچ جون کو پیدا ہونے والے بکری کے اس بچے کے کان غیرمعمولی طور پراتنے لمبے ہیں کہ پورے قد سے کھڑے ہونے کے باوجود زمین سے لگتے ہیں۔
مردان ٹائمز کے مطابق یہ اب تک دنیا میں کسی بکرے کے طویل ترین کان ہیں، اور اس وجہ سے 19 انچ (48 سینٹی میٹر) طویل کان والے سمبا کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کروایا جائے گا۔
بکری کے مالک جس کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، محمد حسن ناریجو نے اس حوالے سے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی اس بکری کے بچے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لیڑی نسل سے تعلق رکھنے والی جانوروں کے کان طویل ہوتے ہیں لیکن سمبا کے کان غیرمعمولی طویل ہیں. انھوں نے کہا اب تک دنیا میں کسی بکرے کے کان اتنے لمبے پیدا نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ شاید یہ دنیا کے سب سے لمبے کانوں کو والا بکرا بن سکتا ہے۔
بکرے کے مالک محمد حسن نے اس حوالے سے مزید کہا کہ وقت اور نشوونما کے ساتھ ساتھ بکرے کے اس بچے کے کان مزید لمبے ہوتے جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب تک سعودی عرب میں حجازی نسل کے بکرے کانوں کی زیادہ سے زیادہ لمبائی 43 سینٹی میٹر نوٹ کی گئی ہے لیکن میرے فارم میں جو بکرا پیدا ہوا ہے، اس کے کانوں کی لمبائی غیرمعمولی طور پر 48 سینٹی میٹر ہے جو ایک ریکارڈ بھی ہے۔

اس حوالے سے انھوں نے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سمبا کی دیکھ بھال اور صفائی پرحصوصی طور پر ایک ملازم مامور ہے. انھوں نے کہا کہ سمبا کو رکھنے کے لیے ایک خاص پنچرہ بنایا گیا ہے۔ بکرے کے مالک محمد حسن نے مزید کہا کہ سمبا کے سونے کے لیے بھی حصوصی طور پر ایک بستر بھی تیار کیا گیا ہے۔
بکری کے مالک محمد حسن ناریجو نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کئی افراد نے سعودی عرب سے اس بکری کے بچے کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، لیکن فی الحال وہ اس کو فروخت کرنے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ وہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس کا نام شامل کرانا چاہتے ہیں۔

Related Posts