افغانستان جنگ اور امریکہ کی شرمناک شکست- ندیم خٹک

american army & Afghan Taliban

یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ امریکہ نے 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے نتیجے میں افغانستان کےطالبان کو زمہ دار اور قسوروار ٹھراتے ہوئے افغانستان پر حملہ کردیا۔ افریکہ نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر افغانستان پر وحشیانہ کارپٹ بمباری کے اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ امریکہ نے نیٹو ممالک کو بھی اپنے ساتھ ملا کرطالبان کی ایک پرامن اور نہایت اعلیٰ نظام عدل کو ختم کردیا۔
اب دو دہائیوں کے بعد امریکہ نے اپنی عافیت اس میں سمجھی کہ افغان طالبان سے مذاکرات کرکے اس جنگ سے اپنی جان چھڑاے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر امیریکہ سے مدد طلب کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کے میز پر بیٹھنے پر مجبور کردیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان دوہا میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے۔ جس میں پاکستان نے ماحول کو ساسگار بنانے میں نہایت ہی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ زلمے خلیل زاد نے بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان ماحول کو سازگاربنایا۔
مذاکرات کے دوران کبھی کبھی ڈیڈلاک بھی پیدا ہوا۔ لیکن پاکستان نے سہولت کار کا کردار اداکرتےہوئے ماحول کوخراب ہونے سے بچایا۔ اور بلآخر دونوں فریقین معاہدہ کے نزدیک پہنچ گئے۔ اور ایک معاہدہ طے پایا کہ امریکہ اور نیٹو کے فوجی مئی 2021 تک افغانستان کو چوڑ کر نکل جائینگے۔ لیکن امریکہ میں نئے انتحابات کے نتیجے میں بننے والے نئے صدر نے واپسی کے تاریخ مئی سے ستمبر کردی۔
باخرحال مئی میں امریکی اور نیٹو کے فوجی نکلنا شروع ہوچکے ہے ۔ اور جمعہ کے دن امریکی افواج نے افغانستان کی سب سے بڑی ایربیس ، بگرام ایربیس کو بھی خالی کردیا ہے۔ اس کے دو تین دن بعد امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کا 90 فیصد فوجی اہلکار اور فوجی ساز وسامان افریکہ پہنچ چکا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 1000 سی -17 جہازوں کے زریعے یہ سازوسامان اور فوجی باہر پہنچا دیے گئے ہیں۔
افغانستان میں بگرام ایربیس کے نئے کمانڈر جنرل اسداللہ کوہستانی نے کہا کہ امریکہ نے جاتے ہوئے ہمیں نہ اعتماد میں لیا اور نہ ہی ہمیں کوئی پیشگی اطلاع دی۔ افغان کمانڈر کے مطابق امریکہ نے رات کی تین بجے ایربیس کے تمام لائٹس(بتیاں) بند کرکے پراوازیں بھریں۔افغان کمانڈر کے مطابق ہم امریکہ کے اس اقدام سے سخت ناراض ہوئے۔ امریکہ کا افغانستان سے انخالا کو دیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنی کاراوائیاں مزید تیز کردی ہے۔ جس میں بدخشاں، قندوز، ہلمند اور دوسرے کئی اہم صوبوں پر قبضہ کے لئے گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
لیکن سب سے اہم بات ہے کہ امریکہ تو افغانستان سے نکل جائے گا لیکن اس کے بعد اس ملک کا کیا ہوگا؟کیا افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی اور فساد کی طرف جائے گا؟ اور امریکہ نے افغانستان میں جو 20 سال گزارے اور ہر وقت یہ کہتا کہ ہم افغانستان کے فوج کو تربیت اور جدید سازوسامان فراہم کرے گے تو وہ تربیت اور فوجی سازوسامان کہا گئی؟ امریکہ نے جو اربوں ڈالر یہاں کی فوج کو تربیت کے نام پر لگائے تو اس کی کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ یہ کہ افغان کے سیکورٹی کے اہلکار ایک کے بعد ایک ضلع بغیر لڑے افغان طالبان کے حوالے کر رہا ہے۔ اس سے تو افغان طالبان زیادہ طاقتور نکلے۔ جس نے نہ کوئی باقاعدہ ٹریننگ لی ہے اور نہ اس کے پاس جدید اسلحہ ہے ۔
خدا کرے کہ افغانستان کے عوام ایک مرتبہ پھر دربدر نہ ہو۔ اور افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی طرف نہ بڑے۔ لیکن اس کا دارومدار طالبان اور افغان حکومت پر آتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اس اہم مسئلے کا کوئی حل نکالے۔ ورنہ افغانستان کے غریب عوام ایک مرتبہ پھر بے سروسامانی کے کیفیت میں دوسروں ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جائینگے۔ اور یہ بات بھی یاد رہے کہ افغانستان کی کئی نسلیں اس خانہ جنگی میں پلی بڑی ہے۔ اور اب بس کرے ۔آپ کے مسئلے کے حل کے لئے کوئی اور نہیں آئے گا۔ آپس میں بیٹھے اور خو د اپنے مسئلے کو حل کرے تاکہ افغانستان دوسرے ملکوں کی طرح طرقی کی راہ پر گامزن ہو۔

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on whatsapp

Related Posts