کوانٹم کمپیوٹر ترقی یا تباہی- محمد ریاض

Quantum Computer 640x480
فوٹو: فائل

آپ نے تو عام کمپیوٹرز کے علاوہ سوپر کمپیوٹرز کے بارے میں تو سناہی ہوگا۔ لیکن شاید آپ نے کوانٹم کمپیوٹرز کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں بات کریں تو بعض لوگوں کے مطابق یہ جدید دُنیا میں ایک قسم کا قہر ہے۔ اور اسی کمپیوٹر کے بارے بات کرتے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کمپیوٹر سے ہمیں ڈرنا چاہیے۔
کمپیوٹرز کے ماہرین اور بڑی بڑی کمپنیاں اس بات پر قائل ہیں کہ اس کمپیوٹر کی مدد سے ‘انکرپٹڈ’ یا خفیہ اور حساس قسم کی فائلیں اچانک کھولی جائیں گی۔ اور اس کی مدد سے کوئی بھی کمپنی یا شخص کسی کے بھی خفیہ راز پڑھ کر افشا کرسکتے ہیں۔ماہرین نے ایسی صورتحال کو ‘کوانٹم اپوکلپس’ جس کا آسان لفظوں میں مطلب ہے کوانٹم تباہی کی نام دیا ہے۔
آپ کو بتاتے چلے کہ کوانٹم کمپیوٹر عام کمپیوٹروں کی طرح نہیں ہے جو کہ گزشتہ صدی میں تیار کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ عام کمپیوٹرں کے مقابلے میں کئی گنا تیز کام کرسکےگے۔ یعنی موجودہ دور آپ کوئی کام عام کمپیوٹرز کی مدد سے گھنٹوں میں کرتے ہیں یہ کوانٹم کمپیوٹرزوہی کام سیکنڈز کے حساب سے کربائے گا۔ اس کے علاوہ موجودہ دور کے کمپیوٹرز کی کسی بھی لاک شدہ فائل کو کسی نے کھولنا ہو تو یہ عام کمپیوٹرز سے جہاں سال لگ سکتے ہیں ، وہی کوانٹم کمپیوٹز یہی کام چند سیکنڈز کے حساب سے سرانجام دے گا۔
اور یہی وجہ ہے کہ بات سوچنے کی لائق ہے کہ اگر کسی بھی کمپنی یا شخص کے پاس یہ کوانٹم کمپیوٹر آجائے تو وہ کمپنی یا شخص دنیا کے کسی بھی بینک، فوج کی خفیہ فائلوں اور اس کے علاوہ دیگر خفیہ سسٹم میں نہایت آسانی سے داخل ہوسکے گا اور اپنی کام کرپائے گا۔ اسی عمل اور منظر کو بعض ماہرین نے ایک قسم کی تباہی قرار دیا ہے۔یعنی ایک طرف انسان اس قابل ہوجائے گا کہ سالوں کا کام چندلمحوں میں کرپائے گا، اور اسی کوانٹم کمپیوٹروں کے مدد سے بنی نوع انسان کو درپیش زیادہ تر مشکلات حل ہوسکتے ہیں لیکن دوسری طرف اس سے دوسرے انسانوں ، کمپنیوں اور ملکوں کی تباہی بھی آسانی سے کرسکے گا۔
کوانٹم کمپیوٹر کی طاقت اور اس سے لینے والے کام کے بارے میں جانتے ہوئے کئی بڑی بڑی کمپنیاں اور حکومتیں اسی سیکٹر میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اور وہ یہ سرمایہ کاری اسی لئے کررہی ہے کہ اس شعبے میں تحقیق سے ایک قسم کا انقلاب برپا ہوگائے گا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ یہ کوانٹم کمپیوٹر اگر سالوں کا کام چند لمحوں میں کرپائے گالیکن دوسری طرف ہم دیکھے تو اس سے کئی قسم کے غلط کام بھی لئے جاسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر بعض کمپنیاں اور ممالک اس کو ایک دوسرے کے خلاف بھی استعمال کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے خفیہ فائلوں تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹاچوری کرسکتے ہیں۔کوانٹم کمپیوٹرز کی تیاری کی دوڑ میں امریکہ، چین، روس اور برطانیہ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سخت مقابلہ اور مخنت جاری ہے۔ یہ ممالک اسی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ سائبر سیکورٹی کی دنیا میں دفاعی اور سٹریٹجک معاملات میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاسکیں۔
شاید آپ کو معلوم ہو یا نہ ہولیکن روزانہ کے حساب سے ایک بڑی مقدار میں ‘انکرپٹڈ ڈیٹا’ خفیہ کوڈز کی مدد سے جمع ہورہی ہیں جس میں ہم سب کے بارے میں معلومات شامل ہیں اور یہ سب ہماری اجازت کے بغیر ڈیٹا بینکوں میں جمع کی جارہی ہیں۔اب آپ خود سوچیں کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں یہ ڈیٹا جمع ہورہی ہیں اور اگر ایک دن تو اس کوانٹم کمپیوٹرز نے تیار تو ہونا ہی ہے، اور جس دن یہ کمپیوٹر تیار ہوگیا تو ڈیٹا چور اسی کوانٹم کمپیوٹروں کی مدد سے اس ساری معلومات کو ڈیکرپٹ کرلےگے۔اور ان کوڈ شدہ ڈیٹا کی معلومات کی گتھی سُلجانے کی صلاحیت حاصل کرلیں گے۔
اس حوالے سے ہم بتاتے چلے کہ موجودہ زمانے میں ہم جو کچھ بھی انٹرنیٹ پر کرتے ہیں، مثلاً آن لائن خریداری، بینکوں کے درمیان پیسوں کی منتقلی، سوشل میڈیا پر مختلف موضوعات پر تبصرے اور اس طرح کے دوسرے سرگرمیاں وہ سب کی سب انکرپٹڈ زبان یر کمپیوٹر کی خفیہ زبان میں درج ہوتا ہے۔ اب انتظار اس دن کی ہے جب ایک بار یہ کوانٹم کمپیوٹر تیار ہوجائے تو انکرپشن کی خفیہ زبان میں درج شدہ تمام معلومات کو توڑنا چند سیکنڈوں کا کام ہوگا۔
اس وقت ترقیافتہ ممالک اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان اس کوانٹم کمپیوٹر کے بنانے کے حوالے سے دوڑ جاری ہے۔ اور جس کسی نے بھی اس کو بنا یا تو آسان لفظوں میں اس کو تقریباً فوری طور پر یہ صلاحیت حاصل ہوجائے گی کہ وہ مختلف بینکوں میں کھاتوں کا مکمل طور پر صفایا کردے۔ اس کے علاوہ اگر یہ کوانٹم کمپیوٹر کسی حکومت کو مل جائے تو وہ اس قابل ہوجائے گی کہ وہ دوسرے ممالک کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کردےگا۔ موجودہ زمانے میں بٹ کوائن کی جو اربوں ڈالرز کی تجارت جاری ہے یہ بھی اس کے زد میں آجائے گی اور نہایت قلیل عرصے میں اس کا صفایا کردےگا۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین یہ پیشنگوئی بھی کررہے ہیں کہ کوانٹم کمپیوٹر کے آنے سے موجودہ دور میں انکرپشن کے زیادہ تر طریقے یکسر بیکار ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان کمپیوٹروں کی مدد سے موجودہ زمانے میں استعمال ہونے والی ساری انکرپیٹد ڈیٹا تک رسائی مل جائے گی۔ اور جیساکہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹروں کی مدد سے لاک فائلوں کو صرف چند لمحوں ان لاک کیا جائے گا۔
موجودہ دور میں ماہرین یہ بھی پیشنگوئی کررہے ہیں کہ کوانٹم کمپیوٹرز ہمارے زندگی کے لئے ایک خطرہ ہیں۔ زیادہ تر لوگ کو تو چھوڑے، ترقی پزیر ممالک نے بھی اس بارے میں نہیں سوچا کیونکہ اگر ایک طرف یہ بعض ممالک اور کمپنیوں کے لئے ترقی ہے تو دوسرے جانب یہ ترقی پزیر اور غیرترقی یافتہ ممالک کے لئے مکمل تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور اگر ابھی سے ہم نے ان کوانٹم کمپیوٹر کے خلاف کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تو ہمیں واقعی ایک سنگین قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
جبکہ دوسری جانب جو ترقی یافتہ ممالک ہیں انھوں نے اس کے خلاف پہلے سے اختیاطی تدابیر اختیار کرنی شروع کی ہے۔ ان ممالک میں عملی طور پر اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لئے پہلے سے کوششیں شروع کردی گئی ہیں اور ایسا صرف چند مہینوں سے نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم برطانوی حکومت کی مثال لے تو انھوں نے جو ‘ٹاپ سیکرٹ’ ہیں یا اس زمرے میں آنے والے دوسری قسم کا ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ ہے وہ برطانوی حکومت نے پہلے سے ہی پوسٹ کوانٹم کردیا ہے۔
برطانوی حکومت نے کوانٹم کمپیوٹر کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے اپنی اہم ترین ڈیٹا اور ریکارڈ کو انکرپشن کی نئی صورتوں کا استعمال کرتے ہوئے درج کیا ہے اور ایسا اب بھی جاری ہے۔ برطانوی حکومت کو توقع ہے اس طریقہ کار کی بنیاد پر ہماری ڈیٹا اور سرکاری ریکارڈ ‘کوانٹم پروف’ یعنی کوانٹم کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہوجائے گا۔
اگر ہم ایک جانب دیکھے تو بعض کمپنیاں کوانٹم کمپیوٹر کے بنانے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے پیچھے لگی ہوئی ہیں لیکن بعض ایسی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بھی ہیں جیسے کہ گوگل، مئیکروسافٹ، انٹیل اور آئی بی ایم جو کہ اس کے حل پر کام کررہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور اہم خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے نزدیک ‘یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی’ میں پوسٹ کوانٹم کرپٹو گرافی ‘بیوٹی پریڈ’ ہورہی ہے۔ اور عمل کا واحد مقصد یہ ہے کہ کس طرح ایک معیاری اور دفاعی حکمت عملی بنائی جائے جو تعلیمی اداروں، حکومتوں ، صنعت، اہم قومی انفراسٹرکچر اور دفاعی اداروں کو متوقع ‘کوانٹم کے قہر’ اور تباہی کے خطرات سے تحفظ فراہم کرسکے گی۔
اگر دیکھا جائے تو کوانٹم کمپیوٹنگ ایک نہایت ہی محنت طلب کام ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ اس پر پیسہ بھی بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے لیکن یہ دوسری طرف دیکھے تو یہ عمل بڑی مقدار میں حدت بھی پیدا کرتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حکومتوں اور بڑی بڑی کمپنیوں، بینکوں ، صنعتوں اور دفاعی اداروں کے سامنے ایک ہی سیکورٹی چیلنج ہے اور وہ ہے کوانٹم کمپیوٹر۔ یہ واحد سیکورٹی خطرہ ہے جس کا توڑ ہمیں ابھی سے نکالنا ہے۔ ورنہ اگر یہ جس حکومت کے ہاتھ بھی یہ کوانٹم کمپیوٹر لگے تو وہ اپنے مخالف ملک کو نہیں بخشے گا۔ اسی طرح جس بڑی کمپنی کو یہ مل گیا تو وہ اپنی مخالف دوسری کمپنوں کو نہیں بخشےگا۔ اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکومتیں آپس میں مشت و گریباں ہوگی اور اس سے ایک نئی انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

Related Posts