پولیو وائرس: موزمبیق میں 30 سال بعد پہلے جنگلی پولیو وائرس کیس کی تصدیق

First Polio case confirmed in Mozambique after 30 years Photo File 640x480
موزمبیق میں تیس سال بعد پولیو کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

. میپوٹو: موزمبیق میں 30 سال بعد یعنی 1992 کے بعد یہ ملک کا پہلے پولیو کیس ہے، اور موجودہ جاری سال میں جنوبی افریقہ میں جنگلی پولیو وائرس کا دوسرا درآمدی کیس ہے.
مردان ٹائمز کو میپوٹو سے ملنے والی خبروں کے مطابق موزمبیق میں 30 سال بعد جنگلی پولیو وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے. لیکن اس سال یعنی 2022 میں ایک اور جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی میں بھی اس وائرس کا کیس سامنے آیا ہے.
مزید تفصیلا ت کے مطابق موزمبیق کے صحت کے محکمے کے حکام نے اس ہفتے ملک میں 30 سال بعد پہلے جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1 کیس کی نشاندہی اور بعد میں تصدیق کی ہے. واضح رہے کہ 1992 کے بعد موزمبیق میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا اور اس سال کے شروع میں ایک اور جنوبی افریقی ملک ملاوی میں بھی اس جنگلی پولیو وائرس کا کیس سامنے آیا تھا. اسی طرح یہ جنوبی افریقہ میں دوسرا درآمدی پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے.
اس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشیڈیسو موتی نےبتایا ہے کہ "افریقہ میں جنگلی پولیو وائرس کے ایک اور کیس کا رپورٹ ہونا ہمارے لئے واقعی انتہائی تشویشناک ہے. انھوں نے مزید کہا کہ ملاوی میں حالیہ پولیو کیس کے رپورٹ ہونے کے بعد اگر چہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ یہ جنگلی پولیو وائرس کتنا خطرناک ہے اور کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
اس حوالے سے سی ڈی سی جو کہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کا امریکی ادارہ ہے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "پولیو ایک معذور کرنے والی اور ممکنہ طور پر مہلک بیماری ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے. اسی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ یہ پولیو کا وائرس چونکہ متاثرہ شخص کے پاخانے میں رہتا ہے، اور جب اس بیماری سے متاثرہ افراد رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن یا کسی اور صفائی کرنے والی چیز سے اچھی طرح نہ دھوئیں تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ وائرس دوسروں کو منتقل ہوکر پولیو کی بیماری نہایت تیزی کے ساتھ پھیلا سکتی ہے.
ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر متاثرہ فرد ہاتھ صاف نہ کرے تواسی شخص کے پاخانے سے آلودہ پانی یا کھانا کھانے کی وجہ سے اس سے پھیلنے والی وائرس سے دوسرے لوگ بھی اس بیماری ک انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں. ادارے نے مزید کہا کہ پولیو سے متاثرہ زیادہ تر افراد اس بیماری کو محسوس نہیں کرتے. اس کے علاوہ بعض افراد میں صرف معمولی قسم کی علامات پائی جاتی ہیں، جس میں بخار، تھکاوٹ، متلی، سردرد، ناک بند ہونا، گلے میں خراش، کھانسی، گردن اور کمر میں اکڑنا، اور بازوؤں میں درد وغیرہ شامل ہیں.
امریکی ادارے کا مزید کہا ہے کہ اس بعض صورتوں میں اس بیماری کی وجہ سے متاثرہ شخص کے پٹھوں کا نظام مستقل طور پر متاثر ہوسکتا ہے. اس کے علاوہ پولیو کی بیماری اس صورت میں مہلک ثابت ہوسکتی ہے جب یہ سانس لینے کے لیے استعمال ہونے والے نالی کے پٹھے مفلوج ہو جائیں. اس طرح اگر یہ وائرس دماغ میں انفیکشن پیدا کرے تو اس صورت میں بھی یہ بیماری مہلک ثابت ہوسکتی ہے.
امریکی صحتی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ پولیو کا یہ وائرس متاثرہ انسان کے آنت میں قیام کرکے بڑھتا ہے، اور یہاں سے ہی انسان کے اعصابی نظام پر حملہ آور ہوکر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
اس بیماری سے اگر ایک بندہ ایک بار متاثر ہوجاتا ہے تو پھر وہ زندگی بھر کے لئے مریض بن کر دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے. اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس پولیو بیماری کو نہایت ہی خوفناک بیماری سمجھا جاتا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا کوئی علاج اب تک ستیاب نہیں ہے تاہم اس کو پولیو ویکسین کے ذریعے آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔ اور اس سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے.
خیال رہے کہ اسی سال پاکستان میں بھی پولیو کے تین کیسز سامنے آئے ہیں اور پیر کے دن سے اس بیماری کے خلاف پانچ روزہ ویکسین پھیلانے کی مہم کا آغاز کیا جارہے ہے.

Related Posts