طالبان کی نئی حکومت کا پاکستان میں اسلام آباد کے سفارتخانے جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں قونصل خانوں میں نئے اہلکاروں کی تعیناتیاں

Afghan Taliban Leaders Meeting

کابل: افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت نے پاکستان کے دارالخلافے میں موجود اپنے سفارتخانے سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود اپنے قونصل خانوں میں اپنے نئے اہلکاروں کی تعیناتیاں مکمل کی ہیں۔
مردان ٹائمز کو کابل سے حاصل ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت نے اسلام آباد کے دارلخلافے سمیت کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں موجود اپنے قونصل خانوں میں اپنے نئے سفارتی اہلکاروں کی تعیناتیاں مکمل کرلی ہے۔ واضح رہے کہ یہ طالبان حکومت کی جانب سے کسی غیرملک میں پہلی تعیناتیاں ہیں۔ اس سے پہلے طالبان نے کسی بھی دوسرے ملک میں اپنے اہلکاروں کی تعیناتیاں نہیں کی ہے۔ اسی طرح پاکستان وہ پہلا ملک بن گیا جس میں افغان طالبان نے اپنے سفارتی اہلکاروں کی تعیناتیاں کی ہو۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تعینات ان چار سفارتی اہلکاروں میں سے تین نے اپنے کام کا آغاز بھی کرلیا ہے۔ مردان ٹائمز کو اسلام آباد میں موجود افغانستان کے سفارتخانے اور پشاور اور کوئٹہ میں دیگر قونصل خانوں سے جو ا رپورٹس موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق یہ تعیناتیاں "فرسٹ سیکرٹریز” کے طور پر ہوئی ہیں۔
مردان ٹائمز کو افغان حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق افغان حکومت نے 20 اکتوبر 21 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کی ہے جس میں افغان حکومت نے سردار احمد شکیب کو اسلام آباد میں اپنے سفارتخانے میں تعینات کیا ہے۔ اسی طرح حافظ محب اللہ شاکر ، گل حسن ابو محمد اور عباس خان محمد کو بالترتیب پشاور، کوئٹہ اور کراچی کے قونصل خانوں میں فرسٹ سیکرٹریز کی حیثیت سے تعینات کئے ہیں۔
افغانستان کے سفارتحانے اور دیگر قونصل خانوں سے مردان ٹائمز کو تازہ ترین معلومات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے تعینات تمام اہلکار پاکستان پہنچ گئے ہیں اور ان میں سے تین سفارتی اہلکاروں نے اپنے کام کا آغاز بھی کردیا ہے۔
اُدھر پاکستان حکومت کی وزارت خارجہ سے جب اس نوٹیفیکیشن کے بارے میں پوچھا گیاتو اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب بھی اس بارے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لیکن دوسری جانب ہادی بحر جو کہ افغان سفارتخانے میں ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں نے کہا ہے کہ ہمارے سفارتحانے کو افغان وزارت خارجہ سے یہ نوٹیفیکیشن موصول ہوچکاہے تاہم ان سفارتکاروں نے ابھی تک اپنا کام شروع نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان کی نئی حکومت جو کہ ابھی ابھی بنی ہے کو تاحال پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے ۔ قانونی ماہرین اس بارے میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایک ملک کسی ملک کی حکومت کو تسلیم نہں کرتا، تب بھی سفارتی اہلکاروں کی تعیناتیاں اس ملک میں ہوسکتی ہے۔
مردان ٹائمز نے جب اس بارے میں پاکستان میں قانونی ماہرین کی رائے جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے بتایا کہ اگر پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم نہ بھی کیا ہو تو بھی طالبان کی طرف سے یہ سفارتی عہدیدار قبول کیے جاسکتے ہیں۔ اس قانونی ماہر کے مطابق ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون میں کسی حکومت کے لیے دو طریقے ہیں، پہلا طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی سٹیٹ یا حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کیا جائے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے اگر کسی ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول ہے تو پھر بھی اسی بنیار پر اُن کے ساتھ انگیجمنٹ ہوسکتی ہے۔

Related Posts