پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان سراج ا لدین حقانی کی ثالثی میں امن مذاکرات کی اطلاعات

تحریک طالبان پاکستان

کابل: پاکستان حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان افغانستان کے صوبہ خوست میں امن مذاکرات کے آغاز کی اطلاعات موصول ہو چکی ہے.
مردان ٹائمز کو کابل سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان، افغانستان کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کی ثالثی میں امن مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے. یہ امن مذاکرات افغانستان کے صوبہ خوست میں دو ہفتوں سے جاری ہیں.
اس سے پہلے پاکستانی حکومتی زرایع نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک وفد تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے افغانستان کے دورے پر گیا ہوا ہے. یہ امن مذاکرات پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہے.
یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لئے اُس وقت ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے جب سے افغانستان میں طالبان برسراقتدار آئے ہیں. دوسرے طرف سراج الدین حقانی جو کہ پاکستان کے زیادہ نزدیک سمجھے جاتے ہے، اور حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر بھی ہے اور اس وقت وہ افغانستان کے وزیرداخلہ کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں کے ثالثی میں یہ مذاکرات ہو رہے ہیں. یہ بات واضح رہے کہ حقانی نیٹ ورک کی جڑیں زیادہ تر مشرقی افغانستان اور پاکستن کے قبائلی علاقوں میں ہیں اور دوسری طرف سراج الدین حقانی امریکی حکومت کے ‘انتہائی مطلوب’ افراد کی فہرست میں اُن کا نام شامل ہیں.
یہ خبر بھی پڑھیں: افغان عوام کے بغیر حکومت نہیں چلا سکیں گے، سراج الدین حقانی
عالمی میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے پاکستان ی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان دونوں فریقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گییں لیکن تاحال دونوں جانب سے کوئی رائے معلوم نہیں کی جاسکی. بعض زرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہیں. اسی حوالے سے جمعے کی دن پاکستان کے ایک اخبار نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان حکام کی جانب سے پاکستانی حمایت یافتہ طالبان کے ساتھ بات چیت گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہیں اور یہ امن مذاکرات افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کی ثالثی میں ہورہے ہیں.
مردان ٹایمز کو کابل سے ان مذاکرات کے بارے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ان کے مطابق ان مذاکرات میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جو پہلا مطالبہ سامنے آیا ہے وہ اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہےجو کہ جنگ بندی اور اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے.
اُدھر تحریک طالبان پاکستان نے ان مذاکرات کے حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم پاکستان طالبان کے کمانڈر نے ایک عالمی خبررساں ادارے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مارچ کے مہینے میں ہی پاکستان حکومت اور ان کے درمیان رابط ہوا تھا.
دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے خبررساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے بعض گروپوں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوجائے تو اُنھیں معافی دی جائے گی. عمران خان نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ان مذاکرات کو افغان طالبان کی حمایت بھی حاصل ہوگی.

Related Posts