360 ارب ٹیکسوں پر مشتمل منی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیاجائے گا

Mini Budget in Pakistan

اسلام آباد: آئی ایم ایف کے دباؤ میں حکومت 360 ارب روپوں پر مشتمل منی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی.
مردان ٹائمز کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے شرائط کو پورا کرنے کے لئے عوام پر 360 ارب روپوں پر مشتمل منی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی. وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منی بجٹ کی منظوری کے لئے اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ نے فنانس تریمیمی بل 2021 کی منظوری دے دی ہے.
مردان ٹائمز کو منی بجٹ کے حوالے سے وزرات خزانہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 144 اشیا پر نیا ٹیکس لگے گا. واضح رہے کہ یہ اشیاء یا تو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں اور یا ان پر پانچ فیصد سے لے کر بارہ فیصد تک ٹیکس عائد ہے. جبکہ اس منی بجٹ میں ان اشیا پر 17 فیصد ٹیکس لگے گا.
ان 144 اشیاء پر 17 فیصد ٹیکس لگنے سے ٹیکس کی وصولی 352 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہوجائےگی جس کی اہم وجہ یہ ہے بہت سی اشیاء پر پہلی بار ٹیکس عائد لگے گا. جبکہ دوسرے طرف ایف بی آر کو ان اشیا سے ملنے والی ٹیکس تخمینے کا اندازہ بھی نہیں ہے.
اسی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے موبائلز کے فون کالز پر انکم ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد پر لے گیا ہے جس سے حکومت کو مزید 7 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے. اس کے علاوہ حکومت نے شیرخوار بچوں کی دودھ میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر بھی زیرو ریٹنگ ٹیکس ہٹا کر اس پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ہے. اس مد میں حکومت کو 9 ارب روپے کی آمدن ہوگی، جبکہ اس مد میں ٹیکس کا تخمینہ 15 ارب روپے لگایا گیا ہے.
حکومت نے شیر خوار بچوں کی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس لگایا ہے جس سے حکومت کو 6 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوگی. اس کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت نے ڈیوٹی فری دکانوں میں‌فروخت ہونے والی اشیا پر بھی 17 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس عائد کیا ہے، تاہم ان پر ٹیکس پہلی بار لگایا جارہا ہے اس لئے اس مد میں حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی کا تخمینہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا.
آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے 850 سی سی بڑی گاڑیوں پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے. اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے سی بی یوز پر بھی ٹیکس کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 17فیصد پر لے جایا گیا ہے. ایک تجارت سے دوسرے تجارت کے درمیان ہونے والی ٹرانزایکن پر بھی ٹیکس 16.9 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردیا ہے.
موجودہ حکومت کی طرف سے ادویات میں سب سے زیادہ ٹیکس لگائے ہیں. ادویات کے خام مال پر بھی 17 فیصد جی ایس ٹی لگایا جائے گا. ادویات کی مد میں لگنے والے ٹیکس سے حکومت کو سب سے زیادہ 45 ارب روپے حاصل ہوں گے.

Related Posts