روسی دورے کی سزا دی جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان

PM_Imran_Khan_Speech_640x480

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں روس جانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں اور سزا دی جارہی ہے، کیا کسی خودمختار ملک کو ایسی دھمکیاں دی جاسکتی ہیں.
مردان ٹائمز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا ‘کہ یہ کہتے ہیں امریکا کو ناراض نہیں کرنا اور امریکا کو ناراض نہ کرنے کی وجہ سے آزاد خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا’. انھوں نے مزید کہا کہ ایک خود مختار اور آزاد خارجہ پالیسی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ بھارت عالمی پابندیوں کے باجود روس سے تیل خرید رہا ہے اور امریکہ کہتا ہے بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتے. دوسری طرف برطانیہ کے وزیرخارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی ہے مداخلت نہیں کرسکتے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت امریکا کا اتحادی ہے مگر پھر بھی روس سے تعلقات قائم کر رہا ہے. وزیراعظم نے پوچھا کہ بقول امریکا بھارت آزاد ہے تو ہم کیا ہیں؟ جو ملک آزاد پالیسی کا نہ ہو وہ کبھی عوامی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتا۔
افغان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا اس جنگ میں ہمیں جو ڈالرز ملے تھے اس سے کہیں زیادہ نقصان ہم نے اٹھایا. انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام سمیت دیگر کمزور ممالک ہم سے آگے نکل گئے اس لیے کیونکہ ہم نے اپنے لوگوں کو ترجیح دینے کی بجائے ڈالروں کو ترجیح دی.
وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ کیوبا نے پابندیوں کے باوجود ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ڈائیلاگ ملک کے لیے بہت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے دماغ میں ہمیشہ سیکیورٹی کا مطلب فوج تھا.
ریاست مدینہ کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاید ووٹ کے لیے ریاست مدینہ کی بات کرتا ہوں، لیکن بدقسمتی سے ریاست مدینہ کی کامیابی تاریخ کا حصہ ہے لیکن لوگوں کو ریاست مدینہ کا ماڈل ہی سمجھ نہیں آیا۔

Related Posts