راولپنڈی اور لاہور سمیت کئی علاقوں میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان تصادم، علاقہ میدانِ جنگ بن گیا

PTI Workers fighting with Police Photo Twitter 640x480
پی ٹی آئی کارکنان پولیس سے جھڑپوں کے دوران کئی پولیس زخمی ہوئے ہیں۔ فوٹو: ٹویٹر

اسلام آباد، لاہور: جڑوا شہروں راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں پولیس اور پی ٹی آئی ارکان کی درمیان تصادم کی خبریں آرہی ہیں جس کے باعث کئی کارکنان زخمی ہوگئے ہیں. اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی دو خواتین رہنماؤں عندلیب عباس اور یاسمین راشد کو گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد حکومت نے دوبارہ رہا کردیا گیا ہے.
مردان ٹائمز کو ملک کے مختلف علاقوں سے خبریں‌آرہی ہیں جس کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ریاستی اداروں اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان شدید تصادم ہوا ہے.
مزید خبروں اور تفصیلات کے مطابق پولیس اور پی ٹی آئی ارکان میں تصادم کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کئی ارکان شدید زخمی ہوئے ہیں. عمران خان کی آزادی مارچ کے حوالے سے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے ایک تازہ ترین ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لال حویلی کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیر کررکھا ہے. انھوں نے ویڈیو پیغام میں مزید بتایا کہ حویلی کے محاصرے کے علاوہ ہمارے پارٹی ارکان کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے.
اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ میں تاریخی آزادی مارچ میں شرکت کے لئے ضرور اپنے ورکروں سمیت آوں گا. ادھر لوہور میں بھی پولیس اور پی ٹی آئی ارکان کے درمیان آنکھ مچھولی کا کھیل جاری ہے اور پی ٹی آئی رہنماؤ حماد اظہر کو بھی پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی ارکان نے مداخلت کرکے انہیں اپنے گاڑی تک پہنچا دیا ہے.
دوسری جانب پی ٹی آئی کی گھڑ، خیبرپختونخوا سے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنان اٹک پل پر جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں. پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس اور شیلنگ بھی کی ہے.
اُدھر اسلام آباد پولیس کی جانب سے تقریبآ 40 – 50 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو کہ سرینگر ہائی وے اور ڈی چوک پر احتجاج کررہے تھے. پولیس کی جانب سے گرفتار کئے گئے افراد کو اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے. پی ٹی آئی کی آزادی مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کررکھا ہے۔ پی ٹی آئی کو آزادی مارچ سے روکنے کے لئے حکومت نے فیض آباد، مری روڈ اور آئی جے پی روڈ کو کنٹینروں اور خاردار تاروں کی مدد سے مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے.
اُدھر وفاقی حکومت کی طرف سے دارالحکومت سے منسلک راولپنڈی میں چلنے والی میٹرو بس سروس، بس اڈے، پبلک ٹرانسپورٹ سمیت تعیلمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے. اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی آزادی مارچ کے پیش نظر حکومت نے جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
آزادی مارچ کے پش نظر حکومت نے اسلام آباد کی سیکورٹی کے لئے پولیس، رینجرز اور ایف سی کے تازہ دم دستے طلب کرلی ہے. اس کے علاوہ ریڈ زون کو جانے والے تمام علاقے سیل کردئے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.

Related Posts