قومی اسمبلی نے انتحابات سے متعلق پی ٹی آئی حکومت کی ترامیم ختم کرادی

National Assembly of Pakistan Photo Twitter
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے پی ٹی آئی کی حکومت کی انتحابی اصلاحات کو ترمیمی بل کے زریعے ختم کردیا ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی موجودہ نشت میں حکومت نے انتحابات سے متعلق ترمیمی بل 2022 کے زریعے سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی اوورسیز پاکستانیوں اور ووٹنگ مشین سے متعلق ترامیم ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے.
مردان ٹائمز کے مطابق قومی اسمبلی کے حالیہ جاری اجلاس میں، جو کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت میں شروع ہوا ہے، حکومت کی جانب سے وزیرپارلیمانی امور مرتضیٰ عباسی نے الیکشن اصلاحات کا بل ایوان میں پیش کیا.
قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیرقانون اعظم نذیر تارڈ نے الیکشن اصلاحات 2022 بل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ای وی ایم سے متعلق قانون سازی پر کافی اعتراضات تھے. انھوں نے مزید کہا کہہ وقت کے ساتھ ساتھ قانون میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے. انھوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں بھی کچھ کمی بیشی رہ گئی تھی جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرقانون اعظم نذیر تارڈ نے الیکشن اصلاحات کے حوالے سے مزید کہا کہ الیکشن ریفارمز کی آڑ میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو بغیر اعتماد میں لئے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کہا گیا. انھوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے الیکشن کمیشن، فافن اور پلڈاٹ کا بھی موقف دیا گیا. وزیرقانون نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اس قانون میں بہت سی ترمیم کی گئیں.
وزیرقانون اعظ‌م نذیرتارڈ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ای وی ایم مشین پر بہت سے اعتراضات اٹھائے لیکن جان بوچھ کر پھر بھی اس قانون کو پاس کیا گیا. انھوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اس بل کو بہت ہی کم فرق کے ساتھ قومی اسمبلی سے پاس کراوایا تھا. انھوں نے کہا کہ جب یہ بل سینٹ میں آیا تو اسے کمیٹی میں ارسال کیا گیا. انھوں نے کہا کہ اس کے اوپر ہم نے بہت سے اجلاس کیے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ہمیشہ رولز کو بلڈوز کیا اور اس بل کو منظور کیا گیا.
وزیرقانون کے اظہار خیال کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرتے ہوئے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کی ترامیم پیش کرنے کی اجازت دے دی. اس کے بعد اس بل کو شق وار منظور کرلیا گیا. بل منظور ہونے کے ساتھ ہی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کی ترامیم ختم کردی گئیں۔
ایوان میں نیب ترامیم کی بل بھی پیش
موجودہ حکومت نے نیب قانون کے حوالے سے بھی قومی احتساب آرڈینینس 1999 ترمیمی بل قومی اسمبلی میں‌پیش کیا.پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر مرتضیٰ عباسی نے قومی احتساب ترمیم بل دوم 2021ء ایوان میں پیش کیا.
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی احتساب بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ اس ایوان میں قانون سازی ہو. انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت تمام معاملات آرڈیننس کے ذریعے چلاتے رہے. انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک آرڈی ننس چیئرمین نیب کے حوالے سے جاری کیا گیا اور اسی آرڈینینس میں توسیع دی گئی. انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد کچھ اور ترامیم کی گئیں جس کے ذریعے سول سرونٹس کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا.
اس موقع پر وزیرقانون نے مزید کہا کہ نیب قانون کے زریعے کئی سول سرونٹس کو بغیر کسی ثبوت کے جیل میں ڈالا گیا. اسی طرح نیب قانون کو سیاست دانوں کو ان کی آواز تبدیل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا. انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے معزز ججز صاحبان کئی بار کہ چکے ہیں کہ نیب کو سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
وزیرقانون نے کہا کہ ہم نیب قانون کے خلاف ترامیم لے کر آرہے ہیں کیونکہ ہم اس نظام کو مزید بہتر کرنا چاہ رہے ہیں. انھوں نے کہا کہ نہ ہی ہم این آر او دینا چاہ رہے ہیں اور نہ ہی لینا چاہ رہے ہیں. انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمان ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو کہ آئین کے خلاف ہو.

Related Posts