پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان

Petrol filling_640x480
ایک شخص گاڑی میں پیٹرول ڈال رہا ہے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات جس میں پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کی تیل شامل ہیں کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کردیا ہے. قیمتوں میں اضافے کا نفاذ آج رات 12 بجے کے بعد ہوگا.
مردان ٹائمز کے مطابق موجودہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کردیا ہے. تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فی لیٹر تیل کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے.
اس حوالے سے اسلام آباد میں‌ پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان میں مہنگائی ہے. انھوں نے کہا کہ اگر ہم بھی پی ٹی آئی حکومت کے طے شدہ فارمولے کو اپناتے تو اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 205 روپے ہوتی۔
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر چہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ سے روپے کی قدر کو استحکام بھی ملے گا. انھوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے تک آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو معاشی امداد دینے سے انکار کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انھوں مزید کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا پورا ادراک ہے اور عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے نہایت ہی مشکل فیصلہ تھا. انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں‌ کو فکس کیا تھا جس کی وجہ سے آج پاکستانی عوام اور حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے. انھوں‌ نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ مشکل فیصلہ لیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی پاکستان میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا، حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردے گی. انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ اس مشکل فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان ضرور پہنچے گا لیکن ہم پی ٹی آئی کی طرح نہیں ہے اور ہمارے لئے ملک اور معاشی صورتحال ہی زیادہ اہم ہے.
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 174 روپے 15 پیسے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایم ایف اور پاکستانی حکومت کے درمیان دوحہ میں چار روزہ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں. اس مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کو معاشی امداد کی مد میں نئی قسط جاری کرنے کے لئے بجلی اور پیٹرول پر دی گئی سبسڈی کو ختم کرنے کی شرط رکھ دی ہے.

Related Posts